احکام نماز

نماز میں رفعِ یدین منسوخ ہے یا نہیں؟

فتوی نمبر :
59839
| تاریخ :
2006-03-27
عبادات / نماز / احکام نماز

نماز میں رفعِ یدین منسوخ ہے یا نہیں؟

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ رفعِ یدین نماز میں منسوخ ہے یا نہیں؟ اور اگر منسوخ ہے تو کب منسوخ ہوا ہے؟ قرآن پاک اور حدیثِ رسول ﷺ سے وضاحت فرمائیں، آپ کے جواب کا منتظر رہوں گا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

دورانِ نماز تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ دیگر مواقع پر ، دلائلِ شرعیہ کی روشنی میں ترجیح اسی بات کو ہے کہ ان مواقع میں رفعِ یدین نہ کیا جائے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ حضورﷺ ابتداء میں رفعِ یدین فرماتے تھے، پھر جیسے جیسے نماز میں سکون کا حکم آتا گیا تو رفعِ یدین بھی ترک فرما دیا یہاں تک کہ اخیر عمر میں آپ ﷺ سے ایسی نمازیں بھی ثابت ہیں جن میں تکبیرِ تحریمہ کے علاہ رفعِ یدین نہیں کیا اور بعض مواقع پر آپ ﷺسے رفعِ یدین کی ممانعت بھی منقول ہے، اب اگرچہ نماز دونوں طرح جائز ہے، مگر افضل تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ رفعِ یدین نہ کرنا ہی ہے اور اسی عمل کو ترجیح ہے ، جن احادیثِ صریحہ یا حسنہ میں رفعِ یدین نہ کرنے کا ذکر آیا حکم ہے ، ان میں سے چند احادیث مندرجہ ذیل ہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

فی صحيح مسلم: عن جابر بن سمرة، قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «ما لي أراكم رافعي أيديكم كأنها أذناب خيل شمس؟ اسكنوا في الصلاة» اھ(1/ 322)۔
وفی سنن أبي داود: عن جابر بن سمرة، قال: دخل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم، والناس رافعوا أيديهم - قال زهير: أراه قال - في الصلاة، فقال: «ما لي أراكم رافعي أيديكم كأنها أذناب خيل شمس؟ أسكنوا في الصلاة» اھ(1/ 262)۔
وفی مسند أحمد: عن جابر بن سمرة، قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم، فقال: " ما لي أراكم رافعي أيديكم كأنها أذناب خيل شمس، اسكنوا في الصلاة " (34/ 488) وهٰکذا فی سنن النسائی و الطحطاوی وسنده صحیح اھ وفی سنن الترمذي: عن علقمة، قال: قال عبد الله بن مسعود: ألا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فصلى، فلم يرفع يديه إلا في أول مرة. اھ(1/ 343)۔
وعن عبداللہ بن عمر عن النبی صلی اللہ علیه وسلم كان یرفع یدیه إذا إفتتح الصلوٰة ثم لا یعود رواه البیهقی فی الخلافیات والزیلعی اھ (۱/۴۰۴)۔
وفی مسند الحميدي: سالم بن عبد الله، عن أبيه، قال: «رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا افتتح الصلاة رفع يديه حذو منكبيه، وإذا أراد أن يركع، وبعد ما يرفع رأسه من الركوع فلا يرفع ولا بين السجدتين» اھ(1/ 515)۔
وفی سنن النسائي: عن عبد الله قال: ألا أخبركم بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «فقام فرفع يديه أول مرة ثم لم يعد» اھ(2/ 182)۔
وفی اعلاء السنن: عن ابن مسعود صلیت خلف النبی صلی اللہ علیه وسلم وأبی بکر وعمر فلم یرفعوا أیدیهم إلا عند افتتاح الصلوٰة أخرجه البییهقی اھ (۳/۵۳)۔
وفی الطحطاوی: عن عاصم بن كليب، عن أبيه، «أن عليا، كان يرفع يديه إذا افتتح الصلاة، ثم لا یرفع بعده اھ (۱/۱۶۱)۔
وفی مصنف ابن أبي شيبة: عن عاصم بن كليب، عن أبيه، «أن عليا، كان يرفع يديه إذا افتتح الصلاة، ثم لا يعود» اھ(1/ 213)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59839کی تصدیق کریں
0     733
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات