احکام نماز

سننِ مؤکدہ اور دیگر چار رکعات پر مشتمل نوافل میں قعدۂ اولیٰ میں التحیات کے بعد درود اور دعائیں پڑھنا

فتوی نمبر :
59826
| تاریخ :
2009-04-21
عبادات / نماز / احکام نماز

سننِ مؤکدہ اور دیگر چار رکعات پر مشتمل نوافل میں قعدۂ اولیٰ میں التحیات کے بعد درود اور دعائیں پڑھنا

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سننِ اربعہ ظہر، عصر، عشاء اور نوافل اشراق، چاشت اور تہجد جب چار چار رکعات ادا کریں تو قعدۂ اولیٰ میں کہاں تک پڑھنا ہے صرف تشہد یعنی’’عبدہ ورسولہ‘‘ تک یا درود شریف اور آخری دعا سمیت؟
نیز تیسری رکعت کی ابتداء میں ثناء بھی پڑھنی ہوگی یا سورۃِ فاتحہ سے ہی شروع کرینگے؟ جو بھی حکمِ شرعی ہو مطلع فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ چار رکعت والی سننِ غیر مؤکدہ جیسے عصر وعشاء سے قبل کی سنتیں اور چار رکعت والے نفل کے قعدہ اولیٰ میں تشہد کے ساتھ ساتھ درود شریف، آخری دُعا اور تیسری رکعت کے شروع میں ثناء پڑھنا افضل ہے، جبکہ سننِ مؤکدہ جیسے ظہر سے قبل اور جمعہ سے پہلے اور بعد والی سنتوں کی ادائیگی فرائض کی طرح ہوگی کہ اس کے قعدۂ اولیٰ میں صرف تشہد ’’عبدہ ورسولہ‘‘ تک پڑھا جائےگا اور تیسری رکعت کی ابتداء میں ثناء بھی نہیں پڑھی جائیگی۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار: (وفي البواقي من ذوات الأربع يصلي على النبي) - صلى الله عليه وسلم - (ويستفتح) ويتعوذ اھ(2/ 16)۔
وفیه أیضاً: (ولا يصلى على النبي - صلى الله عليه وسلم - في القعدة الأولى في الأربع قبل الظهر والجمعة وبعدها) ولو صلى ناسيا فعليه السهو، وقيل لا ،شمني (ولا يستفتح إذا قام إلى الثالثة منها) لأنها لتأكدها أشبهت الفريضة اھ(2/ 16)۔
وفی حاشية ابن عابدين: أما إذا كانت سنة أو نفلا فيبتدئ كما ابتدأ في الركعة الأولى، يعني يأتي بالثناء والتعوذ لأن كل شفع صلاة على حدة اهـ(2/ 16)۔
وفی حاشیة الطحطاوی: بخلاف الرباعیات المندوبة فیستفح ویتعوذ ویصلی علی النبی فی ابتداء کل شفع منها اھ (۲۱۴)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59826کی تصدیق کریں
1     1680
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات