احکام نماز

کرسی پر نماز پڑھنے کی صورت میں میز یا تختہ پر سجدہ کرنا

فتوی نمبر :
59825
| تاریخ :
2009-10-27
عبادات / نماز / احکام نماز

کرسی پر نماز پڑھنے کی صورت میں میز یا تختہ پر سجدہ کرنا

حضرت مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام شریعت کے مطابق اُن کرسیوں کے متعلق جو معذور حضرات کے لۓ بیٹھ کر نماز پڑھنے کے لۓ مساجد میں رکھی جاتی ہیں، ان کے آگے سجدہ کرنے کے لۓ تختی لگی ہوئی ہے، اس تختی پر سجدہ کرنا کیسا ہے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس تختی پر سجدہ نہ کرنا چاہیۓ، بلکہ اشارہ سے سجدہ کرنا چاہیۓ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر کوئی شخص ایسا معذور ہو کہ زمین پر سجدہ کرنا اس کے لۓ سخت مشقت اور تکلیف کا باعث ہو اور وہ سامنے کسی میز اور تختہ پر سجدہ کرنے پر قادر ہو تو ایسے مریض کے لۓ مذکور کرسی پر نماز پڑھنا بلاشبہ جائز ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی تفسير روح المعاني: وأخرج ابن أبي حاتم والطبراني من طريق جويبر عن الضحاك عن ابن مسعود في الآية أنه قال: إنما هذا في الصلاة إذا لم تستطع قائما فقاعدا وإن لم تستطع قاعدا فعلى جنب، وكذلك أمر صلّى الله عليه وسلم عمران بن حصين، وكانت به بواسير. كما أخرجه البخاري عنه اھ(2/ 369)۔
وفی التاتارخانیة: ألأصل من هذا الباب أن المریض إذا قدر علی الصلوٰة قائماً برکوع وسجود فانه یصلی المکتوبة قائما برکوع وسجود فلا یجزیه غیر ذلك (الی قولہ) وفی السراجیة ولا یلزم الإعادة بخلاف المقید فان عجز عن الرکوع والسجود وقدر علی القعود فانه یصلی قاعداً بایماءٍ ویجعل السجود اخفض من الرکوع اھ (۲/۱۲۰،۱۲۱)۔
وفی النتف الفتاویٰ: وأما صلوة المریض فانها علی ثلٰثة أوجه فان المریض یصلی قائماً یرکع ویسجد فان لم یستطع فقاعداً فان لم یستطع فعلی جنبه فإن لم یستطع فقد سقطت عنه الصلوٰة فی قول الفقهاء اھ (۱/۵۳)۔
وفی خلاصة الفتاویٰ: وفی الأصل المریض إذا عجز عن القیام وقدر علی القعود برکوع وسجود فانه یصلی برکوع وسجود ولا یجزیه غیر ذلك فإن عجز عن الرکوع والسجود وقدر علی القعود فانه یصلی قاعداً بإیماءٍ اھ (۱/۱۹۴)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59825کی تصدیق کریں
0     1308
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات