کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک خطیب صاحب نے خطابت کرتے ہوئے فرمایا کہ اُلٹے کپڑے میں نماز نہیں ہوتی اور جس کی شلوار ٹخنوں سے نیچے ہو اور اس نے پائنچے ٹخنوں سے اُوپر کر کے نماز شروع کی ہو تو اس کی نماز نہیں ہوگی ، شرعاً یہ مسئلہ کہاں تک درست ہے؟ کیا بالکل نماز نہیں ہوتی اس حالت میں یا کراہت کے ساتھ ہو جاتی ہے؟ اور خطیب صاحب کا اس قسم کے مسائل بیان کرنا کہ نماز ہوتی نہیں، کہاں تک درست ہے؟ براہِ کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
قصداً اُلٹے کپڑے پہن کر نماز پڑھنا مکروہ ہے اور نماز سے قبل پائنچے اُوپر کرنا بلاشبہ جائز ہے، اس لۓ مذکور خطیب صاحب نے اگر واقعۃً یہ بات کی ہے تو ان کا یہ عمل مسائلِ شرعیہ سے ناواقفیت پر مبنی ہے، اُن پر لازم ہے کہ بِلاتحقیق اس قسم کے مسائل بیان کرنے سے احتراز کریں۔
فی حاشية ابن عابدين: (قوله وصلاته في ثياب بذلة) الخدمة والابتذال، وعطف المهنة عليها عطف تفسير؛ وهي بفتح الميم وكسرها مع سكون الهاء، وأنكر الأصمعي الكسر حلية. قال في البحر، وفسرها في شرح الوقاية بما يلبسه في بيته ولا يذهب به إلى الأكابر والظاهر أن الكراهة تنزيهية. اهـ. (1/ 641)۔