مکرم ومحترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
عرض ہے کہ مجھے میرے والد نے آج سے سات سال پہلے نماز کی فرض کے بعد سنتیں نہ پڑھنے پر بہت مارا تھا۔ اب اس کے بعد میری حالت یہ ہے کہ جب کبھی والد مسجد میں ہوں تو میری طبیعت خود بخود خشوع وخضوع سے نماز پڑھنے کا تقاضہ کرتی ہے۔ جب والد نہ ہوں تو یہ حالت نہیں ہوتی۔ پوچھنا یہ ہے کہ اب میں کیا کروں؟
دورانِ نماز خوفِ خدا غالب رہنے کے ساتھ ساتھ کلماتِ نماز کے معانی پر توجہ اور اس نماز کے آخری نماز ہونے کا دھیان نصیب ہو جائے تو اس عمل کے ذریعہ خود بخود خشوع وخضوع حاصل ہو جاتا ہے۔ اور بہر صورت ایسا ہی کرنا چاہیے، چاہے والد موجودہوں یا نہ ہوں، چنانچہ اس عمل کی عادت ڈالنے کی ضرورت ہے۔ والله أعلم بالصواب!