کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام درجِ ذیل مسائل کے بارے میں کہ :
۱۔ اگر کسی شخص کو گیس کی شکایت ہو اور دورانِ نماز گیس خارج ہو جائے تو نماز جاری رکھ سکتا ہے یا دوبارہ وضو کر کے نمازلوٹانی ہوگی؟ اور کیا قرآن مجید کی تلاوت بھی گیس خارج ہونے کے بعد کر سکتا ہے یا نیا وضو بنانا ہوگا؟ یعنی چند مہینوں سے گیس کا دائمی مریض ہے۔
۲۔ آجکل جو اسلامی بینک یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارے یہاں سود سے پاک بینکاری رائج ہے تو کیا ایسے اسلامی بینک میں رقم محفوظ کر کے اس کا منافع لینا جائز ہے یا نہیں؟
۳۔ اگر میرا بھائی میری بیٹی کی، اپنے سالے کے ساتھ میرے علم میں لائے بغیر ان کی آپس میں دوستی کروائے اور نوبت یہاں تک پہنچ جائے کہ والدین کے علم میں لائے بغیر وہ شادی کر لیں جس میں میرا بھائی اور بیٹی راضی ہوں تو کیا ان دونوں سے قطعِ تعلق کیا جا سکتا ہے یا نہیں یا کوئی اور صورت اختیار کی جائے؟
۱۔ اگر سائل کو اس قدر گیس کی شکایت ہے کہ چار رکعات یا دو رکعت فرض نماز کی ادائیگی بھی ،پورے وقت میں ،کامل طہارت کے ساتھ نہیں ہو سکتی تو وہ شرعاً معذور ہے اسے چاہیۓ کہ ہر نماز کے وقت کے لۓ وہ نیا وضو کر لیا کرے پھر جب تک اس نماز کا وقت باقی رہےگا اس وقت تک اس بیماری کی وجہ سے اس کا وضو نہیں ٹوٹےگا، البتہ دیگر مفسداتِ وضو کے پیش آ جانے سے وضو ٹوٹ جائےگا اور وقت کے اندر ہر قسم کی نماز کی ادائیگی اورتلاوت وغیرہ سب کر سکتا ہے، البتہ دوسرے وقت کے لۓ نیا وضو کرنا لازم ہے اور پھر عذر کے ختم ہوتے ہی معمول کے مطابق وضو اور نماز کا اہتمام ضروری ہے۔
۲۔ ہماری معلومات کے مطابق میزان بینک اور بینک اسلامی شرعی اصولوں کے مطابق مضاربہ اور مشارکہ کے طریقے پر کام کر رہے ہیں ، اس لۓ ان بینکوں کے ساتھ معاملہ کرنا اور ان کے ذریعہ سرمایہ کاری کر کے نفع حاصل کرنا بھی جائز اور درست ہے۔
۳۔ سائل کے بھائی کا اپنی بھتیجی کو اس طرح ورغلا کر اپنے سالے سے نکاح کروانا بلاشبہ شرارت اور ناجائز عمل ہے، تاہم اگر یہ نکاح والد کی اجازت کے بغیر ہو اور غیر کفؤ میں ہو تو ایسا نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا، ورنہ یہ نکاح تو ہو گیا ہے، مگر والدین کو دھوکہ دینے کی وجہ سے یہ لڑکی گناہ گار ہے، اس لۓ سائل کے بھائی اور بیٹی پر لازم ہے کہ وہ اپنی اس چوری اور کوتاہی پر سائل سے دست بستہ معذرت کریں اور اُسے بھی چاہیۓ کہ انہیں معاف کردے ،تا کہ معاشرہ فساد سے محفوظ رہ سکے۔
فی الدر المختار: (وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب (إلی قوله) (وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في - ﴿لدلوك الشمس﴾ (ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) (1/ 305،306)۔
وفی الهدایة: ولا ینعقد نکاح المسلمین إلا بحضور شاهدین حرّین عاقلین بالغین مسلمین رجلین أو رجل وامرأتین عدولا لا کانوا أو غیر عدول أو محدودین فی القذف قال رحمه اللہ اعلم أن الشهادة شرط فی باب النکاح لقوله علیه السلام لا نکاح إلا بشهود اھ (۲/۳۰۶)۔