کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بندہ جمعہ کی نماز مسجد میں پڑھنے کے بعد مدرسے میں آکر نفل کی نیت سے جمعہ کی نماز پڑھاتا ہے طلباء کی تعلیم کے لۓ ، اور اس میں بعض طلباء ایسے ہیں جن کی عمر بارہ، تیرہ سال ہے ، اب پوچھنا یہ ہےکہ اس بندہ کے لۓ جمعہ کی نماز پڑھانا جائز ہے یا نہیں؟ اور وہ طلباء جن کی عمریں بارہ تیرہ سال ہے، ان کا اس طرح نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
مذکور مکتب کے جو طلباء بالغ ہوں انہیں تو باضابطہ مسجد میں جا کر نمازِ جمعہ میں شریک ہونا لازم ہے اور جو طلباء واقعۃً نابالغ ہوں انہیں مذکور طریقہ پر جمعہ پڑھانا درست نہیں، البتہ انہیں نماز کی عادت ڈالنے کے لۓ پنج وقتہ نماز میں تعلیماً مذکورطریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے، مگر اس میں بھی انہی میں سے کسی کو امام بنانے کا اہتمام چاہیۓ۔
فی مشكاة المصابيح: عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مروا أولادكم بالصلاة وهم أبناء سبع سنين واضربوهم عليها وهم أبناء عشر سنين وفرقوا بينهم في المضاجع» . رواه أبو داود (1/ 181)۔