کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جمعہ کی نماز سے پہلے کی چار رکعات سنت اگرکسی وجہ سے فرض نماز سے پہلے رہ جائیں تو فرض نماز کے بعد اس کو پڑھیں گے یا نہیں؟ قرآن وحدیث اور فقہاء کے اقوال کی روشنی میں مسئلے کی وضاحت فرمائیں۔
جی ہاں! ایسی صورت میں ان سنتوں کی ادائیگی فرض نماز کے بعد ہوگی۔
فی البحر الرائق: وحکم الأربع قبل الجمعة کالاربع قبل الظهر کما لا یخفی اھ (۲/ ۷۵)۔
وفی فتح القدیر: حتی رأیت فی النوادر عن أبی حنیفة إذا شرع فی سنة الجمعة ثم خرج الإمام قال ان کان صلی رکعة أضاف إلیها أخری ویسلم فرجعت وإلیه مال السرخسی والبقالی وقیل یتمها وإلیه أشار فی الأصل أنها صلاة واحدة والأول أوجه لأن متمکن من قضائها بعد الفرض ولا ابطال فی التسلیم علی رأس الرکعتین فلا یفوت فرض الاستماع والاداء علی الوجه الاکمل بلا سبب اھ (۱/ ۴۱۱)۔