کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ تکیبرِ تشریق پڑھنا صرف ان لوگوں پر واجب ہے جس نے قربانی کرنی ہے یا سب لوگوں پر؟ اسی طرح عورتوں پر بھی تکبیرِ تشریق کا پڑھنا واجب ہے؟ براہِ کرم تفصیل سے جواب دیں۔
نویں ذی الحجہ کی نمازِ فجر سے تیرھویں کی نمازِ عصر یعنی تئیس نمازوں میں سے ہر فرض نماز کے بعد ایک مرتبہ تکبیرِ تشریق کا پڑھنا مرد اور عورت سب پر واجب ہے، چاہے ان پر قربانی واجب ہو یا نہ۔
فی الدر المختار: (ويجب تكبير التشريق) في الأصح للأمر به (مرة) وإن زاد عليها يكون فضلا (عقب كل فرض) (إلی قوله) (من فجر عرفة) (إلی قوله) (وقالا بوجوبه فور كل فرض مطلقا) ولو منفردا أو مسافرا أو امرأة لأنه تبع للمكتوبة (إلى) عصر اليوم الخامس (آخر أيام التشريق وعليه الاعتماد) والعمل والفتوى في عامة الأمصار وكافة الأعصار. (2/ 177 ،180)۔