کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی نے نماز میں سجدہ کی آیت تلاوت کی اور اس کے بعد وہ سجدۂ تلاوت ادا کرنے سجدے میں چلا گیا لیکن بجائے ایک سجدہ کے اس نے دو سجدے کئے اور اس کے بعد بقیہ رکعت پوری کرکے نماز پوری کی لیکن آخر میں سجدہ سہو بھی نہیں کیا، اب آپ قرآن و سنت کی روشنی میں بتائیں کہ اس شخص کی نماز ہوگئی یا دوبارہ ادا کرنی پڑے گی؟
ایسی صورت میں سجدۂ سہو واجب ہوجاتا ہے اور ترکِ سجدہ سہو کی صورت میں وقت کے اندر، اندر نماز واجب الاعادہ تھی تاہم اگر ایسا نہ کیا گیا ہو تو وقت گزرنے کے بعد اب اِعادہ کی ضرورت نہیں نماز ادا ہوگئی ہے، البتہ اس کوتاہی پر توبہ واستغفار کرے۔
وفی الطحطاویۃ: (وإعادتہا بترکہ عمدًا) أی مادام الوقت باقیًا وکذا فی السہو إن لم یسجد لہ وإن لم یعدہا حتی خرج الوقت تسقط مع النقصان وکراہۃ التحریم ویکون فاسقًا آثمًا، (وفی حاشیتہٖ) وسقوط الفرض ناقصًا إن لم یسجد ولم یعد۔ اھـ (ص۱۳۴)۔
وفی الدر (بترك) متعلق بيجب (واجب) مما مر في صفة الصلاة (سهوا) فلا سجود في العمد، قيل إلا في أربع: ترك القعدة الأولى، وصلاته فيه على النبي - صلى الله عليه وسلم -، وتفكره عمدا حتى شغله عن ركن، وتأخير سجدة الركعة الأولى إلى آخر الصلاة نهرالخ
و فی الرد تحت (قوله قيل إلا في أربع) أشار إلى ضعفه (الی قولہ) وأجاب في الحلية عن وجوب السجود في مسألة التفكر عمدا بأنه وجب لما يلزم منه من ترك واجب هو تأخير الركن أو الواجب عما قبله فإنه نوع سهو، اھـ (ج۲، ص۸۰)۔