کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید اہلِ سنت والجماعت سے تعلق رکھنے والا ایک حافظ و قاری ہے اگر وہ غیر مقلد کے مدرسہ میں بچوں کو قرآن مجید حفظ کرائے یا ناظرہ قرآن پڑھائے تو پڑھانے کی بناء پر ملنے والا معاوضہ لینے کا کیا حکم ہے اور اہلِ حدیث امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ آیا شریعت کی رو سے جائز ہے یا نہیں؟
نوٹ: یہ مسئلہ پہلے پوچھا گیا تھا جو کہ چند شقوں پر مشتمل تھا اور ان میں سے دو شقوں کا جواب دیا گیا تھا اور ایک شق کا جواب نہیں، وہ شق یہ ہے کہ غیر مقلد امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ آیا شریعت کی رو سے جائز ہے یا نہیں؟
تفصیل سے حکم بیان فرماکر ممنون و مشکور فرمائیں۔
غیر مقلد امام اگر غالی نہ ہو یعنی ائمۂ اربعہ پر طعن و تشنیع نہ کرتا ہو اور مقلدین کو مشرک نہ گردانتا ہو اور مواضعِ خلاف میں وہ احتیاط والے پہلو کو اختیار کرتا ہو تو اس کی اقتداء میں نماز پڑھنے کی گنجائش ہے ورنہ اس کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے احتراز کیا جائے۔
وفی الدر المختار: ان تیقن المراعاۃ لم یکرہ أو عدمہا لم یصح وان شک کرہ۔ (ج۱، ص۵۶۳)۔