احکام نماز

نماز میں رفعِ یدین منسوخ ہے یا نہیں؟

فتوی نمبر :
59548
| تاریخ :
2003-02-02
عبادات / نماز / احکام نماز

نماز میں رفعِ یدین منسوخ ہے یا نہیں؟

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز میں رفعِ یدین منسوخ ہیں یا نہیں؟ اور اگر منسوخ ہے تو کب منسوخ ہوئے ہیں؟ قرآنِ پاک اور حدیثِ رسول ﷺ سے وضاحت فرمائیں۔ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

دورانِ نماز تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ دیگر مواقع پر رفعِ یدین کے بارے میں دلائلِ شرعیہ کی روشنی میں ترجیح اسی بات کو ہے کہ ان مواقع میں رفعِ یدین نہ کیا جائے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ حضور ﷺ ابتداء میں رفعِ یدین فرماتے تھے، پھر جیسے جیسے نماز میں سکون کا حکم آتا گیا تو رفعِ یدین بھی ترک فرمادیا، یہاں تک کہ اخیر عمر میں آپ ﷺ سے ایسی نمازیں بھی ثابت ہیں جن میں تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ رفعِ یدین نہیں کیا اور بعض مواقع پر آپ ﷺ سے رفعِ یدین کی ممانعت بھی منقول ہے، اب اگرچہ نماز دونوں طرح جائز ہے مگر افضل تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ رفعِ یدین نہ کرنا ہی ہے اور اسی عمل کو ترجیح ہے، جن احادیثِ صریحہ صحیحہ یا حسنہ میں رفعِ یدین نہ کرنے کا ذکر یا حکم ہے، ان میں سے چند احادیث مندرجہ ذیل ہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

عن جابر بن سمرۃ قال خرج علینا رسول اﷲ فقال مالی اراکم رافعی ایدکم کانہا اذناب خیل شمس اسکنوا فی الصلوٰۃ۔(رواہ مسلم: ج۱، ص۱۸۱۔ وابو داؤد: ج۱، ص۱۵۰۔ والنسائی: ج۱، ص۱۷۶۔ والطحاوی: ج۱، ص۱۵۸۔ وفی مسند احمد: ج۵، ص۹۳۔ وسندہ صحیحٌ)۔
وعن علقمۃ قال قال عبد اﷲ ابن مسعود ألا اصلی بکم صلوٰۃ رسول اﷲ ﷺ فصلی فلم یرفع یدیہ الا فی اوّل مرۃ رواہ الترمذی وقال حدیث حسن۔ اھـ(ج۱، ص۳۵)۔
وعن عبد اﷲ ابن عمر عن النبی ﷺ کان یرفع یدیہ اذا افتتح الصلوٰۃ ثم لا یعود رواہ البیہقی فی الخلافیات والزیلعی۔ اھـ(ج۱، ص۴۰۴)۔
وعنہ قال رأیت رسول اﷲ ﷺ اذا فتتح الصلوٰۃ رفع یدیہ خذو منکبیہ واذا اراد ان یرکع وبعدما یرفع رأسہ من الرکوع فلا یرفع ولا بین السجدتین کذا فی صحیح ابن عوانۃ۔ (ج۲، ص۹۰۔ والحمیدی: ج۲، ص۲۲۷)۔
وعن عبد اﷲ قال الا اخبرکم بصلوٰۃ رسول اﷲ ﷺ قال فقام فرفع یدیہ اوّل مرۃ ثم لم یعدوفی نسخۃ ثم لم یرفع رواہ النسائی۔(ج۱، ص۱۵۸)۔
وفی اعلاء السنن: عن ابن مسعود صلیت خلف النبی ﷺ وابی بکر وعمر فلم یرفعوا ایدیہم الا عند افتتاح الصلوٰۃ اخرجہ البیہقی۔ اھـ(ج۳، ص۵۳)۔
و روی الطحاوی: عن عاصم ابن کلیب عن ابیہ ان علیًا رضی اﷲ عنہ کان یرفع یدیہ فی اول تکبیر من الصلوٰۃ ثم لا یرفع بعدہ۔ اھـ(ج۱، ص۱۶۱)۔
عن مجاہد قال صلیت خلف ابن عمر فلم یکن یرفع یدیہ الا فی التکبیرۃ الاولٰی من الصلوٰۃ کذا فی مصنف ابن ابی شیبۃ۔ اھـ (ج۱، ص۲۳۷)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59548کی تصدیق کریں
0     633
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات