کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ایک شخص جب نماز ادا کرنے کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے زیرِِ جامہ کے نچلے حصے کو ٹخنوں کے اوپر کرلیتا ہے، یہ حدیث میں ہے کہ زیرِِ جامہ کا ٹخنوں سے نیچے ہونا مکروہ ہے، سوال یہ ہے کہ کیا یہ عمل درست ہے یا غلط؟ میرے کچھ ساتھیوں کا خیال ہے کہ زیرِِ جامہ ہمیشہ ٹخنوں سے اوپر ہونا چاہیئے تاکہ نماز کے وقت اوپر نہیں کرنا پڑے۔
محترم سائل! احادیثِ مبارکہ میں اس شخص کیلئے بڑی وعیدیں بیان کی گئی ہیں جو شلوار ٹخنوں سے نیچے رکھے اور اس وعید کا تعلق محض نماز کے دوران اور وقت کے ساتھ نہیں بلکہ ہر وقت کے ساتھ ہے، اسی بناء پر شلوار اور پائجامہ وغیرہ کا ٹخنوں سے نیچے لٹکائے رکھنا شرعاً ناجائز اور مکروہ ہے جس سے احتراز لازم ہے اس لئے سائل کو جو ساتھی یہ کہتے ہیں کہ یہ حکم عام ہے خواہ نماز کا وقت ہو یا نہ ہو، بہرحال درست ہے۔
وفی المشکوٰۃ: عن ابی ہریرۃؓ ان رسول اﷲ ﷺ قال لا ینتظر اللہ یوم القیامۃ الٰی من جرَّ ازارہ بطرًا متفق علیہ وعنہ ایضًا قال: قال رسول اﷲ ﷺ ما اسفل من الکعبین من الازار فی النار(ج۱، ص۳۷۳)۔
وفی الشامیۃ: ویکرہ للرجال السراویل التی تقع علی ظہر القدمین۔(ج۶، ص۳۵۱)۔