کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ان مسائل کے بارے میں کہ :
(۱) پینٹ شرٹ میں نماز کیسی ہے جبکہ شرٹ باہر ہو؟
(۲) میرا ایک کزن امریکن آرمی کی طرف سے عراق میں جنگ کیلئے گیا ہے، اس کی واپسی پر ہمارے تعلقات اس کے ساتھ کیسے ہونے چاہیۓ؟ اور اگر وہ ہمارے خاندان میں شادی کرنا چاہے تو نکاح ہوگا یا نہیں؟
(۳) ہمارے پڑوس میں ایک عورت جو کہ مسلمان ہے، اس کی شادی خاندانی شیعہ جو کہ تعزیہ وغیرہ نکالتے ہیں کے ساتھ ہوئی ہے، آیا ان کا نکاح ہوگا یا نہیں؟ اور ان کے ہاں آنا جانا یا کھانا پینا جائز ہے یا نہیں؟
برائے مہربانی شریعت کی رو سے تفصیلی جواب سے آگاہ فرمائیں۔ شکریہ
(۱) پینٹ شرٹ اگر اتنی ڈھیلی اور کشادہ ہو کہ اس میں اعضاء کی ساخت بھی نمایاں نہ ہوتی ہو اور پینٹ کے پائینچے بھی ٹخنوں سے اونچے ہوں تو شرعاً اس کے استعمال کی گنجائش ہے اور اس میں نماز بھی بلاشبہ جائز اور درست ہے جبکہ احتیاط اسی میں ہے کہ اگر وقت ہو تو دوسرے کپڑے پہن کر ان میں نماز پڑھنے کا اہتمام کیا جاۓ۔
(۲) سائل کے مذکور چچازاد کا کفار کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف لڑنے یا کفار کی تعداد بڑھانے کی غرض سے عراق جانا قطعاً ناجائز اور حرام فعل ہے جس کی وجہ سے وہ بہت سخت گناہگار ہوا ہے اس پر لازم ہے کہ اپنی اس قبیح ترین حرکت پر بصدقِ دل توبہ واستغفار کرے اور اگر اب بھی وہاں موجود ہو تو فوراً اس حرکت سے باز آجائے اور اپنے ملک واپس چلا جائے ورنہ اس کے باز نہ آنے تک رشتہ دار اس کے ساتھ مقاطعہ بھی کرسکتے ہیں۔
(۳)شیعوں کے مختلف فرقے ہیں اور ہر فرقہ کے عقائد مختلف ہیں اور تقیہ بھی ان کا مذہبی شعار ہے جس کی وجہ سے ان میں تفریق اور امتیاز کرنا مشکل امر ہے اس لئے مذکور شیعہ کے عقائد و نظریات اگر یہ ہوں کہ مثلاً حضرت علی کو خدا مانتا ہو یا قرآن میں تحریف کا قائل ہو یا حضرت جبرئیل علیہ السلام کی وحی لانے میں غلطی کرنے کا عقیدہ رکھتا ہو یا حضرت عائشہؓ پر لگائی جانے والی تہمت کو سچا مانتا ہو یا حضرت ابوبکرصدیقؓ کی صحابیت کا منکر ہو یا اس قسم کا کوئی اور مخالفِ قرآن صریح کفریہ عقیدہ رکھتا ہو تو وہ بلاشبہ کافر ہے اور اس قسم کے شیعوں کے ساتھ کسی سنی العقیدہ لڑکی کا نکاح کرنا جائز نہیں اور اگر شادی ہوچکی ہو تو یہ بلاشبہ زنا کے حکم میں ہے جس کا حکم یہ ہے کہ مذکور سنی العقیدہ عورت ایسے شخص سے فوراً علیحدگی اختیار کرے اور قانون کی زد سے بچنے کیلئے عدالتی خلع کی ڈگری بھی لے لے۔
وفی الدر: ان رویۃ الثوب بحیث یصف العضو ممنوعۃ ولو کثیفًا لا تری البشرۃ منہ۔ الخ (ج۶، ص۳۲۶)۔
وفی کتاب شرح السیر الکبیر: وان قالوا لہم قاتلوا معنا المسلمین والا قاتلناکم لم یسعہم القتال مع المسلمین فان ہددوہم یقفوا معہم فی صفہم ولا یقاتلوا المسلمین رجوت ان یکونوا فی سعۃٍ وتحتہ فی شرحہٖ : لان ذالک حرام علی المسلمین بعینہ فلا یجوز الاقدام علیہ بسبب التہد ید بالقتل کما لو قالوا لہٗ اقتل ھذ المسلم والا قتلتک۔ الخ(ج۴، ص۲۵۳)۔
وفیہ ایضًا: ولو قالوا اعینونا علی المسلمین بقتال او بتکثیر السواد علی ان نخلی سبیلکم لم یحل لہم ھذا الخ وتحتہ فی شرحہٖ : لانہ لا رخصۃ لہم فی قتال المسلمین بحال ولا القاء الرعب فی قلوبہم مالم تحقق الضرورۃ۔ الخ(ج۴، ص۲۵۲)۔
وفی الشامیۃ: نعم لا شک فی تکفیر من قذف السیدۃ عائشۃ رضی اﷲ عنہا او انکر صحبۃ الصدیق، او اعتقد الالوہیۃ فی علی، او ان جبریل غلط فی الوحی او نحو ذالک من الکفر الصریح المخالف للقرآن۔(ج۴، ص۲۳۷)۔