کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ :
(۱) میں جس دفتر میں کام کرتا ہوں اس میں میرے دوسرے ساتھی قریبی مسجد میں جاکر نماز ادا کرنے میں سست رو ہیں اور دفتر ہی میں نماز ادا کرتے ہیں، کیا ہم دفتر میں جماعت ادا کرسکتے ہیں؟
(۲) کیا میں اپنے دفتر کے کام سے فراغت کے وقت اسلامی کتب کا مطالعہ کرسکتا ہوں؟
(۱) احادیثِ مبارکہ میں مسجد جاکر باجماعت نماز پڑھنے کے بڑے فضائل اور اس کے ترک پر بڑی وعیدیں وارد ہوئی ہیں اس لئے سائل کے دوستوں کا بلاعذرِ شرعی مسجد جاکر باجماعت نماز پڑھنے کو ترک کرنا قطعاً درست نہیں اپنی اس سستی اور کاہلی کی وجہ سے وہ سخت گناہگار ہورہے ہیں ان پر لازم ہے کہ نماز باجماعت کا اہتمام کریں جبکہ عذرِ شرعی کی وجہ سے اپنے آفس میں باجماعت نماز کا اہتمام کرنے کی بھی گنجائش ہے مگر اسے معمول بنانے سے احتراز لازم ہے۔
(۲) جی ہاں متعلقہ ذمہ داری اور دفتری امور سے فراغت پر دیگر کتب وغیرہ کا مطالعہ کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔
وعن عبد اﷲ بن مسعود انہ کان یقول من سَرَّہ ان یلقی اللہ عزوجل غدا مسلمًا فلیحافظ علی ھٰؤلاء الصلوات الخمس حیث ینادی بہن۔ الخ(نسائی شریف: ج۱، ص۱۳۶)۔
قال رسول اﷲ ﷺ من خرج من بیتہ متطہرا الی صلوٰۃ متکوبۃ فاجرہ کاجر الحاج المحرم۔ الخ(مشکوٰۃ شریف: ج۱، ص۷۰)۔
وفی الشامیۃ: لا صلوٰۃ لجار المسجد الا فی المسجد۔(ج۱، ص۵۵۵)۔
وفی اعلاء السنن: لا یخفٰی ان وجوب الجماعۃ لو کان مجردًا عن حضور المسجد لما ہم رسول اﷲ ﷺ باضرام البیوت علی المتخلفین لاحتمال انّہم صلواہا بالجماعۃ فی بیوتہم فثبت ان اتیان المسجد ایضًا واجب کوجوب الجماعۃ فمن صلاہا بجماعۃ فی بیتہ اتی بواجب وترک واجبًا آخر۔ (ج۴، ص۱۶۴)۔