کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر نماز میں امام ایک آیت پڑھ کرکے اس آیت کے آخری جزء کو چھوڑ دے اور آگے والی آیت پڑھے اور نماز کو تمام کردے تو کیا یہ نماز درست ہوگی یا نہیں؟ جبکہ ’’منیۃ المصلین‘‘ میں ہے کہ اگر آیت کو آخر سے چھوڑدے اور دوسری آیت کو پڑھے تو نماز باطل ہوجاتی ہے ، اس مسئلے کا قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
امام نے اگر ایک آیت کا کچھ حصہ پڑھ کر توقف کے بعد دوسری جگہ سے پڑھنا شروع کیا ہو تو اس صورت میں سب کی نماز بلاشبہ درست ادا ہوگئی ہے اور اگر بغیر توقف کے ایسا کیا ہو او رمعنی میں بھی کوئی فحش تبدیلی آگئی ہو تو سب کی نماز فاسد ہوگئی ہے، ورنہ نہیں۔
جبکہ ’’منیۃ المصلی‘‘ کی مذکور عبارت کی وضاحت کتاب نہ ہونے کی وجہ سے کرنا ممکن نہیں، البتہ اس کی عبارت لکھ دی جائے تو اس پر بھی غور کیا جاسکتا ہے۔
فی الہندیۃ : لو ذکر آیۃ مکان آیۃ ان وقف وقفا تامًا ثم ابتداء بآیۃ أخری او ببعض آیۃ لا تفسد(الی قولہ) او قرأ ان الذین اٰمنوا و عملوا الصالحات‘‘ و وقف ثم قال ’’اولئک ہم شر البریّۃ‘‘ لا تفسد اما اذا لم یقف و وصل ان لم یغیّر المعنی نحو ان یقرأ ان الذین اٰمنوا و عملوا الصالحات فلہم جزاء الحسنٰی مکان قولہ کانت لہم جنات الفردوس نزلا ، لا تفسد اما اذا غیّر المعنی بأن قرأ ان الذین اٰمنوا و عملوا الصالحات اولئک ہم شر البریّۃ (الٰی قولہ) تفسد عند عامۃ علمائنا و ہو الصحیح ھکذا فی الخلاصۃ۔(ج۱، ص۸۰۔۸۱)۔
و فی غنیۃ المتملی فی شرح منیۃ المصلی المشتہر بحلبی کبیر : و اما الحکم فی قطع بعض الکلمۃ عن بعض لانقطاع نفس او نسیان الباقی بأن اراد ان یقول الحمدﷲ فقال ’’ال‘‘ فانقطع نفسہ او نسی الباقی ثم تذکر فقال ’’حمدﷲ‘‘ او لم یتذکر فترک الباقی و انتقل الٰی کلمۃ اخری فقد کان الشیخ الامام شمس الاتمۃ الحلوانی یفتی بالفساد فی مثل ذالک و بہ قال بعض المشایخ و لکن عامۃ المشائخ قالوا لا تفسد لعموم البلوی فی انقطاع النفس و النسیان۔ الخ (ص۴۸۰)۔