کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی شخص کی مونچھیں خلافِ سنت کافی بڑی ہوں تو ایسے شخص کی اقتداء میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے جبکہ دوسرے ائمہ پابندِ شرع موجود ہوں؟ برائے مہربانی قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرماکر مشکور فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور شخص کی مونچھیں اگر واقعۃً حدِ شرعی سے متجاوز اورخلافِ سنت طرز پر بڑھی ہوئی ہوں اور وہ اس مقدار کے باقی رکھنے میں بھی بضد ہو تو ایسے امام کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہ ہے اور اسے اپنے اختیار سے امام بنانا بھی قطعاً مناسب نہیں، اس لئے اسے چاہیئے کہ اپنی مونچھیں سنت طریقہ کے مطابق کرلے تاکہ اس کی اقتداء میں نماز بلا کراہت درست اداہوسکے۔