کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آپ ﷺ سے زندگی میں کبھی کوئی نماز قضا ہوئی ہے یا نہیں ؟ اور آپ ﷺ نے پھر وہ قضا نماز پڑھی ہو اس کا کسی حدیث سے ثبوت ہے اور یہ کس وجہ سے قضا ہوئی تھی؟
مسئلہ کی وضاحت فرمائیں، جواب جلدی عنایت فرمائیں۔ شکریہ
ہماری تحقیق کے مطابق آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے دو موقعوں پر نماز قضا ہوگئی تھی ایک مرتبہ غزوۂ خندق کے موقع پر جہاد کی مشغولیت کی وجہ سے مسلسل تین نمازیں جبکہ دوسری مرتبہ لیلۃ التعریس میں دورانِ سفر آرام کرنے کی وجہ سے صبح کی نماز قضا ہوگئی تھی اور آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان نمازوں کو بھی باجماعت لوٹایا تھا جن کا ثبوت کتبِ حدیث میں بخوبی موجود ہے۔
وفی صحیح البخاری: عن عبد اللہ ابن ابی قتادۃ عن ابیہ قال سرنا مع النبی ﷺ فقال بعض القوم لو عرست بنا یا رسول اللہ قال اخاف ان تتاموا عن الصلوٰۃ قال بلال انا او قظکم فاضطجعوا واسند بلال ظہرہ الی راحتلہٖ فغلبتہٗ عیناہ فنام فاستیقظ النبی ﷺ وقد طلع حاجب الشمس فقال یا بلال این ما قلت قال ما القیت علی نومۃ مثلہا قط قال ان اللہ قبض ارواحکم حین شاء و ردّھا علیکم حین شاء یا بلال قم فاذن بالناس بالصلوٰۃ فتوضأ فلما ارتفعت الشمس وابیاضت قام فصلی۔(ج۱، ص۸۳)۔
وفیہ ایضًا: عن جابر بن عبد اﷲ ان عمر بن الخطابؓ جاء یوم الخندق بعد ما غربت الشمس فجعل یسب کفار قریش قال یا رسول اللہ ما کدت اصلی العصر حتی کادت الشمس تغرب قال النبی ﷺ و اللہ ما صلیتہا فقمنا الی بطحان فتوضأ للصلوٰۃ وتوضأنا لہا فصلی العصر بعد ما غربت الشمس ثم صلی بعدہا المغرب۔(ج۱، ص۸۳)۔
وفی اعلاء السنن: قال عبد اللہ رضی اللہ عنہ، أن المشرکین شغلو رسول اللہ ﷺ عن اربع صلاۃ یوم الخندق حتی ذہب من اللیل ما شاء اللہ فامر بلالًا رضی اللہ عنہ فاذن ثم اقام فصلی الظہر ثم اقام فصلی العصر ثم اقام فصل المغرب ثم اقام فصلی العشاء۔ (رواہ الترمذی:ج۱، ص۲۵۔ ج۷، ص۱۳۲)۔