کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دودھ میں بھینس کی نجاست آجاتی ہے، ایک شخص نے اپنی آنکھوں سے کئی بار دیکھا ہے، اکثر ڈیری والے حضرات چونکہ نماز نہیں پڑھتے تو طہارت کا بھی خیال نہیں رکھتے ، لہٰذا بے احتیاطی کی وجہ سے اس میں نجاست آتی ہے۔
مندرجہ بالا مسئلہ تفصیل کے ساتھ بتلائیں کہ اس صورت میں ڈیری کا دودھ استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں؟ بحوالہ کتب تحریر کریں۔
سوال کی خط کشیدہ عبارت میں مذکور نجاست سے مراد اگر گوبر کے وہ خشک ذرّات وغیرہ ہیں جو عموماً دودھ دوہتے وقت تھنوں سے گر کر دودھ کے برتن میں بھی بسا اوقات گر جاتے ہیں، تو واضح ہو کہ یہ ذرات بہت کم مقدار میں ہوتے ہیں جن سے دودھ کے رنگ یا ذائقہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی اور دودھ بھی بلاشبہ پاک ہی رہتا ہے ، اس کی وجہ سے شک و شبہ میں پڑنے سے احتراز چاہییے۔
تاہم سائل نے اگر واقعۃً کسی شخص کے دودھ دوہنے کے طریقہ کار سے یا گوبر اور پیشاب وغیرہ کے گرنے سے اندازہ لگایا ہو تو اس صورت میں لازم ہے کہ دودھ اور نجاست دونوں کی مقدار بیان کر کے فقط اس باڑے کے دودھ کا حکمِ شرعی معلوم کرے، مذکور طرز پر سوال درست نہیں، اس سے احتراز چاہیۓ۔
فی الدر المختار: (وبعرتي إبل وغنم، كما) يعفى (لو وقعتا في محلب) وقت الحلب (فرميتا) فورا قبل تفتت وتلون، والتعبير بالبعرتين اتفاقي؛ لأن ما فوق ذلك كذلك، ذكره في الفيض وغيره، ولذا قال (قيل القليل المعفو عنه ما يستقله الناظر والكثير بعكسه وعليه الاعتماد) كما في الهداية وغيرها؛ لأن أبا حنيفة لا يقدر شيئا بالرأي. اھ (1/ 221)۔