احکام نماز

تہجد کی نماز کیلئے بہتر وقت کون سا ہے؟

فتوی نمبر :
59481
| تاریخ :
2002-02-20
عبادات / نماز / احکام نماز

تہجد کی نماز کیلئے بہتر وقت کون سا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :
(۱) تہجد کی نماز کیلئے سب سے بہترین وقت کون سا ہے اور کب سے کب تک ہے؟
(۲) کیا تہجد کی نماز کیلئے رات کو سونا ضروری ہے؟ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

نمازِ تہجد کی ادائیگی کی صحت کیلئے پہلے سونا اور پھر پڑھنا شرط نہیں محض بہتر ہے جبکہ اس کا وقت نمازِ عشاء کے بعد (مستحب اور مباح وقت) سے لے کر صبح صادق تک ہے اور اس کی ادائیگی کیلئے رات کا آخری حصہ زیادہ بہتر وافضل ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

افضل التہجد جوف اللیل الآخر لما روی عمرُ بن عبسۃ قال قلت یا رسول اللہ ﷺ ای اللیل اسمع؟ قال جوف اللیل الآخر فصلِ ما شئت۔ (فقہ الاسلامی: ج۲، ص۷۷)۔
- التسعون عن الزهري عن أبي سلمة وأبي عبد الله الأغر عن أبي هريرة أن رسول الله {صلى الله عليه وسلم} قال ينزل ربنا كل ليلة إلى سماء الدنيا حين يبقى ثلث الليل الآخر يقول من يدعوني فأستجيب له من يسألني فأعطيه من يستغفرني فأغفر له وقد أخرجه مسلم من حديث سلمان الأغر وحده عن أبي سعيد وأبي هريرة أيضاً(مسلم شریف: ج۱، ص۲۵۸)۔
روی ابن خیشمۃ: من طریق الاعرج عن کثیر بن عباس عن الحجاج بن عمرُ قال یحسب احدکم اذا قام من اللیل یصلی حتٰی یصبح انہ قد تہجد انما التہجد ان یصلی الصلوٰۃ بعد رقدۃ وتلک کانت صلوٰۃ رسول اﷲ ﷺ۔ اسنادہ حسنٌ۔(اعلاء السنن: ج۶، ص۴۹)۔
(قولہ النبیﷺ) ماکان بعد صلوٰۃ العشاء فہو من اللیل، فانہ یدل علی ان قیام اللیل وقتہ بعد صلوٰۃ العشاء، ولیس فیہ ان ذٰلک ہو التہجد ایضًا بل بینہما عموم وخصوص مطلقًا ، فکل تہجد قیام اللیل ولیس کل قیام اللیل تہجدًا اذا قام بعد العشاء قبل النوم وقد اختلف فی معنی التہجد ہل ہو السہر او طرح النوم بعد وجودہ۔(اعلاء السنن: ج۶، ص۵۰۶)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59481کی تصدیق کریں
0     988
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات