احکام نماز

{الذین ہم عن صلاتہم ساہون} اس آیت کے مصداق کون لوگ ہیں؟

فتوی نمبر :
59478
| تاریخ :
2002-02-02
عبادات / نماز / احکام نماز

{الذین ہم عن صلاتہم ساہون} اس آیت کے مصداق کون لوگ ہیں؟

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ان دو مسئلوں کے بارے میں کہ :
(۱) کوئی آدمی دھیان اور توجہ سے نماز نہیں پڑھتا ہے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے اور یہ آدمی اس آیت کا مصداق بن سکتا ہے یا نہیں {الذین ہم عن صلاتہم ساہون} اور اس آیت کے مصداق کون لوگ ہیں؟
(۲) تسبیح پر ذکر کرنا کیسا ہے اور تسبیح کا ثبوت ہے یا نہیں اگر ہے تو وہ کیا ہے؟ثبوت نہ ہونے کی صورت میں بدعت ہے یا نہیں اور تسبیح پر کھیلنا کیسا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو نماز کو وقت پر پڑھنا بھول جاتے ہیں اور وقت کو ٹال کر تاخیر سے نماز پڑھتے ہیں، تاہم مذکور طرزِ عمل قطعاً مناسب نہیں اس سے احتراز اور نماز میں توجہ و دھیان چاہئے۔
تسبیح کے دانوں پر ذکر کرنا صحابہ و تابعین اور تعامل سلف سے ثابت ہونے کی وجہ سے بلاشبہ جائز اور درست ہے جبکہ کھیل چاہے تسبیح دانوں کے ذریعہ ہو یا کسی اور چیز کے ذریعہ سے اس میں بہرحال وقت کا ضیاع ہے، اس لئے اس سے احتراز چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی تفسیر ابن کثیر عن مصعب بن سعد عن سعد بن أبی وقاص قال: سألت رسول اللہ ﷺ عن الذین ہم عن صلاتہم ساہون۔ ہم الذین یؤخرون الصلاۃ عن وقتہا: قلت وتاخیر الصلاۃ الخ أو تاخیرہا عن اول الوقت۔الخ(ص۷۲۱)۔
مصعب عن أبیہ موقوفًا: سہوًا عنہا حتی ضاع الوقت۔ الخ (ج۴، ص۷۲۱)۔
وفی الدر: لا بأس باتخاد المسبحۃ بغیر ریاء کما بسط البحر۔وفی الشامیۃ: تحت (قولہ لا بأس باتخاذ المسبحۃ) بکسر المیم، آلہ التسبیح (الی قولہ) ودلیل الجواز ما رواہ أبو داود سعد بن ابی وقاص أنہ دخل مع رسول اللہ ﷺ علی امرأۃ وبین یدیہا نوی أوحصی تسبح بہ فقال: أخبرک بما ہو ألیس علیک من ھذہ أو أفضل؟ فقالؓ فلم ینہہا عن ذلک وإنما أرشدہا إلی ما ہو ألیس وأفضل ولو کان مکروہا لبیّن لہا ذلک۔(ج۱، ص۶۵۱)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59478کی تصدیق کریں
0     560
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات