کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد زخم سے خون نکلنا شروع ہو جائے اور بند نہ ہو تو کیا حکم ہے؟ اگر فوت ہونے کا خطرہ ہو تو اسی حال میں وضو کر کے نماز ادا کر لینی چاہیۓ یا انتظار کر کے قضاء کرنی چاہیۓ؟
ایسی صورت میں نماز کے اخیر وقت کا نتظار کرنا چاہیۓ، اب اگر یہ خون نکلنا بند نہ ہو اور وقت فوت ہونے کا اندیشہ غالب ہو جائے تو اخیر وقت میں اس عذر کی موجودگی میں وضو کر کے نماز پڑھ لی جائے، تاکہ نماز اپنے وقت پر ادا ہو جائے ، اب اگر دوسرے وقت یہ خون نکلنا بند ہو جائے تو اس نماز کا اعادہ کر لیا جائے، ورنہ عذر متحقق ہونے کی وجہ سے اس کی پڑھی ہوئی نماز بھی شرعاً درست کہلائے گی۔
فی حاشية ابن عابدين: ولو عرض بعد دخول وقت فرض انتظر إلى آخره، فإن لم ينقطع يتوضأ ويصلي ثم إن انقطع في أثناء الوقت الثاني يعيد تلك الصلاة. وإن استوعب الوقت الثاني لا يعيد لثبوت العذر حينئذ من وقت العروض. اهـ.(1/ 305)۔