نجاسات اور پاکی

کیا جُنبی کے چھونے سے کوئی چیز ناپاک ہو جاتی ہے؟

فتوی نمبر :
59338
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

کیا جُنبی کے چھونے سے کوئی چیز ناپاک ہو جاتی ہے؟

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص حالتِ جنابت میں اپنے بستر سے نیچے اُتر کر گھر کے کسی بھی حصہ میں جائے تو وہ حصہ ناپاک ہو جاتا ہے یا اگر وہ بغیر غسل کے گھر کی کسی بھی چیز کو ہاتھ لگالے تو وہ ناپاک ہوجائے گی یا نہیں؟ مطلقاً جنبی ناپاک ہے یا نہیں یا وہ دوسری چیزوں کو ناپاک کرتا ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جنبی کی نجاست حکمی ہے حقیقتاً نہیں، لہٰذا اس کا کسی چیز کو چھونا یا کہیں جانا اُس چیز کی نجاست کو مستلزم نہیں ، ہاں! اُسے چاہیۓ کہ ایسی حالت میں زیادہ دیر رہنے سے احتراز کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی مشكاة المصابيح: عن أبي هريرة قال: لقيني رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وأنا جنب فأخذ بيدي فمشيت معه حتى قعد فانسللت فأتيت الرحل فاغتسلت ثم جئت وهو قاعد فقال: «أين كنت يا أبا هريرة» فقلت له فقال: «سبحان الله إن المؤمن لا ينجس» . هذا لفظ البخاري ولمسلم معناه وزاد بعد قوله: فقلت له: لقد لقيتني وأنا جنب فكرهت أن أجالسك حتى أغتسل. وكذا البخاري في رواية أخرى اھ(1/ 141)۔
وفیه أیضاً: وعن عمار بن ياسر قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «ثلاث لا تقربهم الملائكة جيفة الكافر والمتضمخ بالخلوق والجنب إلا أن يتوضأ». رواه أبو داود اھ(1/ 144)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59338کی تصدیق کریں
0     1004
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات