کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ فائبر گیٹ میں ایک سرکاری محکمہ ہے، اس میں پانی سپلائی کیا جاتا ہے جس کی ترتیب یہ ہے کہ وہاں ایک بڑا حوض ہے ۱۰۰ بائی ۲۳کا، اس میں پانی جمع کیا جاتا ہے پھر وہاں سے مختلف علاقوں میں پانی دیا جاتا ہے، میں نے ایک مرتبہ اس حوض میں ایک مرا ہوا کتّا اور تین زندہ کتّے نکالے اور مرا ہوا مذکور کتّا پھٹا یا پھولا نہیں تھا اور اس وقت پانی کے اوصاف: رنگ، بو، مزہ بھی تبدلیل نہیں ہوا تھا۔
مفتی صاحب پوچھنا یہ ہے کہ مذکور حوض سے جو مختلف علاقوں میں پانی آتا ہے مسجد، ہوٹل، کالونی وغیرہ ، یہ پانی پاک ہے یا ناپاک ہے، جبکہ مسجد کے امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ زیادہ اور جاری پانی ہے ، اس لیے پاک ہے۔ اب آپ بتائیں کہ ہم اس پانی سے وضو کر سکتے ہیں یا نہیں؟ اور مذکور امام کے پیچھے نماز پڑھیں یا کسی اور امام کے پیچھے نماز پڑھیں؟ حکم شرعی سے آگاہ فرما کر ممنون فرمائیں۔
اگرچہ مذکور حوض کے بڑا ہونے کی وجہ سے یہ جاری پانی کے حکم میں ہے اور اس صورت میں اس کے ناپاک ہونے کا حکم بھی نہیں لگایا جائےگا۔ تاہم انتظامیہ پر لازم ہے کہ وہ اس اس بالائی حصہ کو بھی باقاعدہ چھت یا کسی ایسے جنگلے وغیرہ سے بند کر دیں کہ اس طرح کے جانوروں کے گرنے سے اس کی حفاظت ہو سکے۔ جبکہ سائل کو چاہیے کہ مذکور امام اگر صحیح العقیدہ ہو تو اس کی اقتداء میں نماز کا اہتمام کرے۔
ففی الدر المختار وحاشية ابن عابدين: والعرف الآن أنه متى كان الماء داخلا من جانب وخارجا من جانب آخر يسمى جاريا اھ(1/ 187)
وفي اللباب في شرح الكتاب: (وكل ماء وقعت فيه نجاسة لم يجز الوضوء به) لتنجسه (قليلا كان) الماء (أو كثيراً) تغيرت أوصافه أو لا، وهذا في غير الجاري وما في حكمه كالغدير العظيم اھ(ص: 13)
وفی الفتاوى الهندية:وإذا ألقي في الماء الجاري شيء نجس كالجيفة والخمر لا يتنجس ما لم يتغير لونه أو طعمه أو ريحه. كذا في منية المصلي.وإذا سد كلب عرض النهر ويجري الماء فوقه إن كان ما يلاقي الكلب أقل مما لا يلاقيه يجوز الوضوء في الأسفل وإلا لا قال الفقيه أبو جعفر - رحمه الله -: على هذا أدركت مشايخي، كذا في شرح الوقاية وهكذا في المحيط وقد صححه في التجنيس لصاحب الهداية. كذا في البحر الرائق وعند أبي يوسف لا بأس بالوضوء إذا لم يتغير أحد أوصافه. كذا في شرح الوقاية وفي النصاب وعليه الفتوى. كذا في المضمرات. (1/ 17) واللہ أعلم بالصواب!