مباحات

امامت پر تنخواہ لینے،جمعہ کے دن دو اذانیں دینے اور ناخن بڑھانے کا حکم

فتوی نمبر :
59250
| تاریخ :
2000-02-20
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

امامت پر تنخواہ لینے،جمعہ کے دن دو اذانیں دینے اور ناخن بڑھانے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ (۱) امامت پر تنخواہ لینا جائز ہے یا نہیں؟
(۲) ایک صاحب نے پوچھا ہے کہ جمعہ میں دو اذانیں کیوں ہوتی ہیں؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں۔ (۳) ہاتھ میں ایک یا دو ناخن چھوڑنا خواہ شوقیہ ہو یا ویسے ہی، اس طرح کرنا کیسا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱) امامت پر تنخواہ لینا جائز ہے اور ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا بلاکراہت جائز ہے۔
(۲) بروز جمعہ دو اذانیں اس لئے دی جاتی ہیں کہ پہلی اذان سے لوگوں کو خرید و فروخت اور دوسرے مشاغل چھوڑ کر جمعہ کیلئے جمع ہونے کی اطلاع دی جاتی ہے اور دوسری اذان خطبۂ جمعہ کیلئے ہوتی ہے۔
چنانچہ قرآن کریم کی آیت: إذا نودی للصلوٰۃ من یوم الجمعۃ (الآیۃ) کی تفسیر میں مفسرین فرماتے ہیں: کہ اذانِ جمعہ شروع میں ایک تھی پھر جب حضرت عثمانؓ کا دور آیا اور مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہوگئی اور اطرافِ مدینہ میں پھیل گئے، امام کے سامنے دی جانےوالی خطبہ کی اذان دور تک کے لوگوں کو سنائی نہ دیتی تھی تو حضرت عثمانؓ نے ایک اور اذان مسجد سے باہر " مکانِ زوراء" پر شروع کرادی جس کی آواز پورے مدینہ میں پہنچنے لگی، صحابہ کرام-رضوان اللہ علیہم اجمعین- میں سے کسی نے بھی اس پر اعتراض نہیں کیا اس لئے یہ اذان باجماع صحابہ شروع ہوگئی۔ الخ! (معارف القرآن، ج:۸، ص:۴۴۲)
(۳) ناخن تراشنا سنت ہے اور تراشنے میں بہتر یہ ہے ہفتہ میں ایک دفعہ تراشے ورنہ ہر پندرہ دن میں ایک دفعہ کاٹے (تراشے) اور آخری درجہ یہ ہے کہ چالیس دن میں ایک دفعہ ضرور تراشے اس سے زیادہ کی اجازت نہیں اور اس میں کوئی عذر معتبر نہیں بلکہ چالیس دن میں ایک مرتبہ بھی نہ تراشنے والا اسلامی احکامات سے روگردانی کرنے کی بناء پر وعید کا مستحق بن جاتا ہے کیونکہ جس شخص کے ناخن زیادہ لمبے ہوجائیں( خواہ شوقیہ طور پر رکھنےسے ہو یا کسی اور وجہ سے) تو اس کی روزی میں تنگی کردی جاتی ہے، لہٰذا اس قسم کے ناپسندیدہ اور تنگیٔ رزق کا سبب بننے والے عمل سے بہرحال احتراز واجب ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الدر المختار: ویفتی الیوم بصحتہا لتعلیم القرآن والفقہ والامامۃ والأذان۔ اھـ (ج۶، ص۵۵)
فی الھندیہ: وقلم الاظفار سنۃ إلا فی دار الحرب (إلٰی قولہ) الافضل أن یقلم اظفارہ ویحفی شاربہ ویحلق عانتہ وینظف بدنہ بالاغتسال فی کل اسبوع مرۃ فان لم یفعل ففی کل خمسۃ عشر یوما ولا یعذر فی ترکہ وراء الاربعین ویستحق الوعید فیما وراء الاربعین۔
وفیہ من کان ظفرہ طویلا یکون رزقہ ضیقا وان لم یجاوز الحد۔ اھـ (ج:۵، ص:۳۵۷) وﷲ اعلم!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59250کی تصدیق کریں
0     724
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات