احکام نماز

کیا جو لوگ رفع الیدین نہیں کرتے ان کی نماز بیکار ہے؟

فتوی نمبر :
59240
| تاریخ :
2000-02-02
عبادات / نماز / احکام نماز

کیا جو لوگ رفع الیدین نہیں کرتے ان کی نماز بیکار ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ :
کیا رفع الیدین کرنا نماز میں جائز ہے؟ اور جو لوگ رفع الیدین نہیں کرتے کیا ان کی نماز بیکار ہے، اسی طرح انہوں نے کافی لوگوں کو رفع الیدین کرانے والی نماز میں لگادیا ہے، آپ مہربانی فرماکر ہمیں رفع الیدین نہ کرنے کا فتویٰ دیں، تاکہ ہم انہیں بتائیں، کیوں کہ ان کا کہنا ہے کہ میں بنوریہ گیا تھا ، ان سے معلوم کیا تو انہوں نے کہا کہ، رفع الیدین کرنا جائز ہے، اب آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ رفع الیدین کے بغیر نماز پڑھنے سے نماز ادا ہوجاتی ہے یا نہیں؟ جبکہ شخصِ مذکور کا کہنا ہے کہ اس طرح نماز نہیں ہوتی اور وہ آئے دن رفع الیدین کرنے کی نمازیوں میں تبلیغ کرتا ہے ، اور کہتا ہے کہ آپ کی نماز کا قرآن و حدیث میں ثبوت نہیں، لہٰذا آپ کی نمازیں پڑھنا بغیر رفع الیدین کے بیکار ہے، برائے کرم اس پریشانی سے نجات دلاکر تسکین قلب کا ذریعہ بنیں۔ شکریہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ نماز میں رفع یدین کرنا یا نہ کرنا دونوں ثابت ہیں، لیکن حضرت ابوبکرصدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت علیؓ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرات براء بن عازبؓ، حضرت عبداللہ ابن عباسؓ، حضرت جابر بن سمرۃؓ اور دیگر کئی بڑے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اہلِ مدینہ اور اہلِ کوفہ ترکِ رفع یدین پر عامل رہے ہیں، جبکہ ائمہ مجتہدین میں سے حضرت امام ابوحنیفہؒ اور حضرت امام مالکؒ کا مذہب بھی ترکِ رفع یدین پر ہے، یعنی رفع یدین نہ کرنا افضل ہے، اگرچہ رفع یدین کرنا بھی جائز ہے۔
درحقیقت ابتدائے اسلام میں بکثرت رفع یدین کرنے پر عمل ہوتا تھا، مگر آہستہ آہستہ حکم میں تبدیلی آتی گئی، آخر کار عہدِ رسالت کے آخر میں صرف ایک مرتبہ رفع یدین رہ گیا تھا ، یعنی تکبیرِ تحریمہ کے وقت، ورنہ احادیث سے تو چھ (۶) دفعہ بھی رفع یدین ثابت ہے، مگر ائمہ اربعہ میں سے کوئی امام یا کوئی دوسرا شخص چھ مرتبہ رفع یدین نہیں کرتا، اور اسی طرح پانچ دفعہ، چار دفعہ، تین دفعہ، دو دفعہ اور ایک مرتبہ بھی رفع یدین کرنا ثابت ہے۔
چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ، ہمیں چھ دفعہ رفع یدین کرنے کا حکم دیا گیا تھا، اور دوسری روایت میں ہے کہ، ہم پانچ دفعہ رفع یدین کیا کرتے تھے، تیسری روایت میں ہے کہ، چار د فعہ رفع یدین کیا کرتے تھے، چوتھی روایت میں ہے کہ، تین دفعہ رفع یدین کیا کرتے تھے، پانچویں روایت میں ہے کہ، دو دفعہ رفع یدین کیا کرتے تھے، اور چھٹی روایت میں ہے کہ، صرف ایک دفعہ رفع یدین کیا کرتے تھے۔
ان تمام روایات سے معلوم ہوا کہ پہلے بکثرتِ رفع یدین کرنے پر عمل ہوتا تھا، لیکن آخر کار صرف ایک دفعہ نماز کے شروع میں تحریمہ کے وقت رفع یدین پر عمل رہ گیا، جیسا حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی چھٹی روایت سے معلوم ہوا۔
اور پھر حضورِ اکرم ﷺ کے اس دنیا سے پردہ فرماجانے کے بعد، حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ، کیا میں تمہیں حضورِ اکرم ﷺ والی نماز پڑھ کر دکھاؤں؟ تو صحابہ کرام نے عرض کیا کہ، ضرور پڑھ کر دکھائیں، تو حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے نماز پڑھ کر دکھائی، اور پوری نماز میں صرف ایک مرتبہ نماز شروع کرتے وقت رفع یدین فرمایا ، اور اس کے بعد رفع یدین نہیں کیا۔
ایک دوسری جگہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ، میں نے حضورِ اکرم ﷺ، حضرت ابوبکر صدیق، اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے ساتھ نمازیں پڑھی ہیں، یہ حضرات صرف ایک دفعہ تکبیرِ تحریمہ کے وقت رفع یدین کرتے تھے۔
چنانچہ عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ، سات مقامات پر ہاتھ اُٹھانے چاہئیں: (۱) نماز شروع کرتے وقت (۲) جب بیت اللہ پر نظر پڑے (۳) صفاء پر (۴) مروہ پر (۵) استلام حجر کے وقت (۶) موقفین کے وقت اور ایک دوسری حدیث میں ساتویں (۷) ’’عیدین‘‘ کو ذکرکیا گیا ہے۔
پس اس حدیث سے بھی یہی معلوم ہوا کہ، اگر تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ دوسرے مقامات پر بھی رفع یدین کا عمل باقی ہوتا ، تو حضورِ اکرم ﷺ ان کو بھی ضرور شمار فرماتے، مگر رسولِ اکرم ﷺ نے صرف ایک دفعہ یعنی تکبیرِ تحریمہ کے وقت رفع یدین کرنے کو شمار فرمایا ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ رفع یدین کرنا اور نہ کرنا دونوں ثابت ہیں، البتہ حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت علی کرم اللہ وجہہ حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عبداللہ بن عباس اوور دیگر اجلّہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور امامِ اعظم ابوحنیفہؒ اور امام مالکؒ نے رفع یدین نہ کرنے کو افضل اور راجح قرار دیا ہے، اور اسی پر وہ عامل رہے ہیں۔
لہٰذا جو لوگ رفع یدین نہیں کرتے ان کی نماز قرآن و سنت کے مطابق ہے، اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں بالکل صحیح اور ثابت ہے، جیسا کہ تفصیل میں یہ بات بالکل واضح ہوچکی ہے کہ، مذکور حضرات فقط ایک مرتبہ تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین پر عامل رہیں اور یہی ان کے نزدیک راجح ہے۔
اب کسی کا اس سے انکار کرنا اور ایک مرتبہ رفع یدین والی نماز کو باطل کہنا نہ صرف یہ کہ یہ قول غلط ہے ،بلکہ اس قول سے احادیثِ نبویہ صریحہ کا بھی انکار اور ابطال ہے، جس کی بناء پر شخصِ مذکور پر واجب ہے کہ، اپنے اس نظریہ سے فوراً توبہ واستغفار کرے اور آئندہ کیلئے اس قسم کی باتوں سے مکمل احتراز کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الطحاوی: عن مجاہد قال صلیت خلف ابن عمر فلم یکن یرفع یدیہ الا فی التکبیرۃ الأولٰی من الصلوٰۃ اھ( ۱/ 110)
وفی مؤطا امام مالک:عن ابن عمر ان رسول اﷲ ﷺ کان اذا افتتح الصلوٰۃ رفع یدیہ حذو منکبیہ واذا رفع رأسہ من الرکوع رفعہما کذٰلک ایضا اھ ( ۵۹)
وفی سنن ابی داؤد:وعن البراء بن عاذب ان رسول اﷲ ﷺ کان اذا افتتح الصلوٰۃ رفع یدیہ إلی قریب من اذنیہ ثم لا یعود اھ ( 109/1)
وفی الصحیح للمسلم: وعن جابر بن سمرۃ قال خرج علینا رسول اﷲ ﷺ فقال مالی اراکم رافعی ایدیکم کأنہا اذناب خیل شمس اسکنوا فی الصلوٰۃ اھ(181/1) ………………… واﷲ اعلم!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59240کی تصدیق کریں
1     2180
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات