کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ (۱) سورج طلوع اور غروب کے وقت سے زوال کا وقت کس طرح نکالتے ہیں ایک مثال بھی دیں؟
(۲) زوال کے وقت سے کتنے منٹ قبل اور کتنے منٹ بعد تک نماز اور سجدہ منع ہے؟
(۳) بعض نقشوں میں سحری یا صبح صادق اور غروب کا درمیانی وقت ضحویٰ کبریٰ کے نام سے دیا گیا ہے جو تقریباً زوال سے 40 منٹ یا 45 منٹ پہلے کا ہوتا ہے، کیا اس وقت میں نماز اور سجدہ منع ہے یا صرف زوال سے چار پانچ منٹ قبل اور بعد تک؟
واضح ہوکہ نصف النہار (یعنی زوال) دو قسم پر ہے ،ایک زوال شرعی، دوسرا زوال عرفی اور ان دونوں کی پہچان کا آسان اور تقریبی طریقہ یہ ہے کہ زوال شرعی صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک ہر روز جتنا وقت ہو اس کے نصفِ اول کے ختم پر شروع ہوتا ہے اور اس کو "ضحوہ کبریٰ"بھی کہتے ہیں،
جبکہ ط زوال عرفی طلوع آفتاب سے غروب تک ہر روز جتنا وقت ہو اس کے نصف اول کے ختم پر شروع ہوتا ہے اور عام نقشوں میں اسی کو زوال کہتے ہیں، نماز کے مکروہ ہونے کا تعلق اسی زوال عرفی کے ساتھ ہے۔
لہٰذا اس زوال سے پانچ منٹ قبل اور پانچ منٹ بعد تک نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے۔ وﷲ اعلم!