کیا فرماتے ہیں علماءِکرام اس بارے میں کہ ہمیں آج ظہر کی نماز میں یہ مسئلہ پیش آیا ہےکہ ۴ رکعت نماز فرض میں امام صاحب نے پہلے ۲ رکعت پڑھی ، پہلا قعدہ بھی صحیح کیا اور چوتھی رکعت میں قعدۂ اخیرہ میں بیٹھنے کے بجائے امام صاحب بھول سے کھڑے ہوگئے تو پھر مزید ۲ رکعت اور پڑھ لیے اور سجدہ سہو بھی کیا ،یعنی ٹوٹل ۶ رکعتیں پڑھ لیں، کیا نماز ہوئی یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں جب امام صاحب فرض کی چوتھی رکعت کے آخر میں تشہد کیلئے قعدہ کرنے کے بجائے کھڑے ہوگئے اور پھر مزید دو رکعت پڑھ لیے تو اس طرح کرنے سے یہ نماز نفل بن گئی ہے اور ظہر ذمہ ے ساقط نہیں ہوئی، لہٰذا جن لوگوں نے امام صاحب کی متابعت میں ظہر کی نماز پڑھی ہے ان سب پر نماز کا لوٹانا واجب ہے۔
فی الدر المختار: (ولو سها عن القعود الأخير) كله أو بعضه (عاد) ويكفي كون كلا الجلستين قدر التشهد (ما لم يقيدها بسجدة) لأن ما دون الركعة محل الرفض وسجد للسهو لتأخير القعود (وإن قيدها) بسجدة عامدا أو ناسيا أو ساهيا أو مخطئا (تحول فرضه نفلا برفعه)الخ(ج 2 ص 85)۔