کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ میں کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کو حاضر ناظر مانے اور نور جانے ، بشر نہ مانے اور اس کا عقیدہ بھی یہی ہو اور اس معاملہ میں سختی بھی کرتا ہو، تو ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ اور کیا اس کے پیچھے نماز ادا ہوجاتی ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور عقیدہ رکھنے والا شخص مشرک ہے اور مشرک کے پیچھے نماز جیسی اہم عبادت کا ادا کرنا قطعاً درست نہیں اس لئے اس سے احتراز ضروری ہے۔
لقولہ تعالٰی: انما المشرکون نجس۔ (الآیۃ)۔