احکام نماز

نماز میں بغیر ہونٹ ہلائے صرف دل ہی دل میں نماز پڑھنے سے، کیا نماز ہو جاتی ہے ؟

فتوی نمبر :
59201
| تاریخ :
2000-05-08
عبادات / نماز / احکام نماز

نماز میں بغیر ہونٹ ہلائے صرف دل ہی دل میں نماز پڑھنے سے، کیا نماز ہو جاتی ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ:
ایک شخص نماز میں بغیر ہونٹ ہلائے، صرف دل ہی دل میں نماز پڑھے، تو اس شخص کی نماز کا کیا حکم ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں شخصِ مذکور اگر واقعۃً دل ہی دل میں یعنی تصوراتی طور پر نماز پڑھتا ہے، حروف کی ادائیگی کے لئے زبان اور ہونٹوں کو حرکت نہیں دیتا، تو اس طرح نماز پڑھنا قطعاً درست نہیں ہے، اور اس سے نماز ادا بھی نہیں ہوتی، لہٰذا شخص مذکور کو چاہیئے کہ اپنے اس رویہ سے احتراز کرے، اور آئندہ کے لئے اس طرح نماز پڑھے کہ اپنے پڑھنے کی آواز کم از کم اپنے کانوں تک پہنچ جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی التاتارخانیة: ولو قرأ بقلبه ولم یحرک لسانه فانه لا یجوز، ولو حرک لسانه بالحروف أجزاہ اھ (٤٤٨/١).
وفی فتح القدیر: وقال لان مجرد حرکة اللسان بدون الصوت لا تسمی قراءۃ یعنی لا لغة ولا عرفا وفیه نظر (الي قوله) وقال الکرخی أدنی الجہر أن یسمع نفسه وأدنی المخافتة تصحیح الحروف اھـ (٢٨٨/١) واﷲ اعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59201کی تصدیق کریں
1     1443
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات