احکام نماز

وتر نماز میں دوسری رکعت پر قعدے کے متعلق روایات میں تطبیق ۔

فتوی نمبر :
59176
| تاریخ :
2000-03-05
عبادات / نماز / احکام نماز

وتر نماز میں دوسری رکعت پر قعدے کے متعلق روایات میں تطبیق ۔

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ ہماری ایک باجی ہیں وہ کہتی ہیں کہ حدیث میں ہے کہ وتر میں دوسری رکعت میں "التحیات" میں نہیں بیٹھنا چاہئے بلکہ سجدہ کے بعد تیسری رکعت کے لئے کھڑے ہوجانا چاہئے، آپ فرمائیں کے ہمیں وتر کیسے پڑھنا چاہئے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ذخیرہ احادیث میں غور کرنے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس طرح کی ایک روایت منقول ہے جس سے مذکورہ خاتون کا مدعیٰ ثابت ہوتا ہے مگر اس حدیث کا تعارض ان احادیث سے ہوتا ہے جو احادیثِ صحیحہ اور صریحہ ہونے کے ساتھ متعدد بھی ہیں اور ان میں یہ قاعدہ کلیہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ہر دو رکعتوں کے بعد قعدہ ہونا چا ہئے خواہ وہ نمازِ نفل، سنن، وتر اور فرض کیوں نہ ہو، اسی طرح بعض احادیث مبارکہ میں نبی ﷺ کا قول ’’صلاۃ اللیل مثنی مثنی‘‘ یعنی ’’رات کی نماز دو دو رکعت ہیں‘‘ اور پھر اس قول کی تفسیر اس طرح فرمائی ہے ’’ہر دو رکعتوں کے بعد قعدہ یعنی تشہد پڑھ لی جائے‘‘۔ تو اس طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا والی روایت اور وہ روایات جن میں قاعدہ کلیہ بیان کیا گیا ہے دونوں قسم کی روایات پر بیک وقت عمل کرنا دشوار ہے ان دونوں قسم کی احادیث پر عمل کرنے کیلئے سوائے اس کے کہ ان میں تطبیق کا عمل کیا جائے اور تاویل سے کام لیا جائے کوئی اور طریقہ ممکن نہیں، جیسا کہ حضرات محدثین نے بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا والی روایت میں تاویل اور تطبیق سے کام لیا ہے وہ اس طرح کہ ’’لا یجلس فی شی منہن إلا فی آخرہن‘‘ میں جلوس کی نفی سے جلوس طویل کی نفی مراد لی جائے جس میں دعا اور ذکر وغیرہ ہو نفس قعدہ کی نفی مراد نہ لی جائے، اسی طرح بعض محدثین نے اس جلوس کی نفی سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کی نفی مراد لی ہے، یعنی فقط آخر دو رکعتوں ’’نفلوں‘‘ کے علاوہ پوری نماز میں قیام فرماتے اور آخری دو نفل بیٹھ کر ادا فرماتے تھے، اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا والی روایت کا مطلب ’’ما کان یصلی شیئًا من ھذہ الصلاۃ جالسًا إلا الرکعتین الاخیرین فانہ کان یصلیہما جالسًا‘‘۔ ہوگا، اور یہ توجیہ بھی بہت ہی مناسب ہے، چنانچہ مذکورہ بالاتفصیل سے بخوبی معلوم ہوگیا کہ وتروں میں بھی قاعدہ اولیٰ ضروری ہے اور یہی قواعد مسلمہ کے مطابق اور واضح ہے، اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک روایت ہے کہ ’’قال رسول اﷲ ﷺ الوتر ثلاث کثلاث المغرب‘‘ (رواہ الطبرانی فی الاوسط) اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ’’الوتر ثلاث کثلاث المغرب‘‘ (رواہ الطبرانی فی الاوسط) اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ’’الوتر ثلاث کوترالنہار صلوٰۃ المغرب‘‘ (رواہ الطحاوی) فیہ دلالۃ علی ان الوتر ثلاث رکعات وتشبیہ بصلوٰۃ المغرب یفید وجوب القعدۃ علی الرکعتین ایضًا کما فی المشبہ بہ ویشعر بمنع نقصہ عن الثلاث ایضًا کما فی المغرب وھٰذا اثر صحیح۔ ان روایات سے بھی قعدہ اولیٰ کے وجوب کی دلیل ملتی ہے پس معلوم ہوگیا کہ مذکورہ خاتون کا قول درست نہیں اور وتروں میں بھی قعدہ اولیٰ ضروری ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی إعلا السنن: عن عائشۃ مرفوعًا فی حدیث طویل، وکان یقول: ’’فی کل رکعتین التحیۃ‘‘( الٰی قولہ) فدل علی وجوب القعدۃ الاولٰی.
فیہ ایضًا بعد صفحۃ: أما ما وقع فی بعض نسخ ’’المستدرک‘‘ عن عائشۃ قالت: ’’کان رسول اﷲ ﷺ یوتر بثلٰث لا یقعد إلا فی اخرہن‘‘ فلاحجۃ بہ علینا لما فی النسخۃ الاخری من لفظ: لا یسلم إلا فی آخرہن وہو الراجح لما فی روایۃ سعید بن أبی عروبۃ: ’’کان لا یسلم فی رکعتی الوتر‘‘ عند النسائی والحاکم ولفظہ: ’’کان لا یسلم فی رکعتین الاولین من الوتر‘‘۔(ج:۶، ص:۴۲۔۴۳)
فیہ ایضًا قولہ ﷺ ’’فی کل رکعتین التحیۃ‘‘ فانہ یفید حکما کلیًا بوجوب القعدۃ علٰی رأس کل رکعتین من الصلاۃ فرضًا کانت أو نفلًا الخ۔ (ج:۶، ص:۴۵) وﷲ اعلم!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59176کی تصدیق کریں
2     4026
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات