کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قبر پر پانی بہانے کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟کیا احادیثِ مبارکہ میں قبر پر پانی ڈالنے سے متعلق نبی کریم ﷺ کا کوئی فعل یا قول وارد ہے یا نہیں؟ براہِ کرم سنتِ رسول ﷺ کی روشنی میں مدلل جواب مرحمت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً!
قبر پر پانی بہانا جس سے میت اور قبر کو نقصان ہو اور اس کی مٹی بھی بہہ جائے قطعاً ثابت اور جائز نہیں اس سے احتراز لازم ہے البتہ اگر محض چھڑکنا مقصود ہو تا کہ کچی مٹی مضبوط ہوجائے تو یہ امر بلاشبہ جائز اور آپ ﷺ سے بھی ثابت ہے۔
فی المرقات: عن جابر قال رش قبر النبی ﷺ کان الذی رش الماء علی قبرہ بلال بن رباح بقربہ بداء من قبل رائسہ حتی انتہی الٰی رجیہ …… قال الطیبی لعل ذالک اشارہ الٰی استنزال الرحمۃ الإلہیہ والعواطف الربانیہ کما ورد فی الدعاء اللّٰہم اغسل خطایاہ بالماء والثلج والبرد وقالوا سقی ﷲ ثراہ وبرد مضجعہ کان اکثر بقا وابعد عن التناثر والاندراس۔ (ج:۴، ص:۱۹۰)
وفی ابن ماجہ عن ابی رافع قال سلّ رسول ﷲ ﷺ سعدا ورش علی قبرہ ماء۔ (ص:۱۱۱)
وفی الشامیہ: ولا بأس برش الماء علیہ(الی قولہ) بل ینبغی ان یندب۔ (ج:۲، ص:۲۳۷) وﷲ اعلم!