تدفین

قبر میں میت کا چہرہ قبلہ رُخ کرنے کا وجوب

فتوی نمبر :
59120
| تاریخ :
2000-02-02
عبادات / جنائز / تدفین

قبر میں میت کا چہرہ قبلہ رُخ کرنے کا وجوب

آج مورخہ 20-07-1998 بروز پیر میرے محترم چچا صاحب کا انتقال ہوا، قبرستان میں دفنانے کے وقت میں نے وہاں موجود لوگوں کو بتایا کہ میت کو قبر میں کروٹ دے کر لٹانا چاہئے اس بات پر کافی شور و غوغا ہوا سب کہنے لگے کہ یہ مسئلہ کہاں سے نکالا ہے ہم تو زمانے سے دیکھتے آئے ہیں کہ میت کو قبر میں سیدھا لیٹاکر صرف اس کا چہرہ قبلہ کی طرف پھیر دیا جاتا ہے، آج تک بڑے بڑے علماء نے کبھی ایسی بات نہیں کی تم کیوں کہتے ہو؟
مندرجہ بالا بیان کی روشنی میں آپ سے درخواست ہے کہ قرآن و حدیث کے حوالے سے اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں۔ بندہ انتہائی مشکور رہے گا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جاننا چاہئے کہ قبر میں میت کا چہرہ قبلہ رُخ کرنا واجب اور اسے داہنے پہلو پر لیٹانا بہتر اور مستحب ہے جس کا طریقہ یہ ہے کہ کسی پتھر، کچی اینٹ، مٹی یا دیوارِ قبر کے ساتھ سہارا دے دینا چاہئے تاکہ استقبالِ قبلہ ہوجائے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال فی الدر: ویستحب أن (یدخل من قبل القبلۃ) (الی أن قال) (ویوجہ إلیہا) وجوبًا وینبغی کونہ علی شقہ الأیمن الخ (ج2 ص 235)۔
وفی حاشیۃ الطحاوی علی مراقی الفلاح :ويوجه إلى القبلة وجوبا كما في الدر أو استنانا كما في ابن أمير حاج عن الإمام فلو وضع لغير القبلة أو على يساره ثم تذكروا قال الإمام إن كان بعد تسريج اللبن قبل أن يهال التراب عليه أزالوا ذلك ووجه إليها على يمينه وإن أهالوا التراب لا ينبش القبر لأن ذلك سنة والنبش حرام اهـ قوله : بذلك أمر النبي صلى الله عليه و سلم عليا لما مات رجل من بني عبد المطلب فقال : يا علي استقبل به القبلة استقبالا وقولوا جميعا باسم الله وعلى ملة رسول الله وضعوه لجنبه ولا تكبوه على وجهه ولا تلقوه على ظهره كذا في الجوهرة وفي الحلبي : ويسند الميت من ورائه بنحو تراب لئلا ینقلب اهـ (ج 2 ص 603)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59120کی تصدیق کریں
0     1565
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات