احکام نماز

خنزیر کے چمڑے کی بنی اشیاء کے خریدنے اور پہننے کا حکم

فتوی نمبر :
59088
| تاریخ :
2006-10-15
عبادات / نماز / احکام نماز

خنزیر کے چمڑے کی بنی اشیاء کے خریدنے اور پہننے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل بازار میں چمڑے کے بنے کوٹ اور جوتے لنڈے بازار میں یا ویسے ہی دکانوں پر فروخت ہو رہے ہیں اور اچھے بھلے دیندار نمازی حضرات ناواقفیت میں اس کو خریدتے اور بےدھڑک استعمال کر تے ہیں حتیٰ کہ دورانِ نماز بھی پہنے رہتے ہیں، جبکہ ان میں خنزیر کے چمڑے کے بنے کوٹ بھی ہوتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسے کوٹوں کی خرید وفروخت اور ان کا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں تو جن لوگوں نے ان کو استعمال کیا اور اس کو پہن کر نماز پڑھی تو ایسی نمازوں کا کیا حکم ہے؟ جبکہ اس سے بچنا بآسانی ممکن ہے، کیونکہ اس کی پہچان یہ ہے کہ خنزیر کے بال چونکہ اس کی کھال میں آر پار ہوتے ہیں اور ممکنہ کوششوں کے باوجود کھال میں اس کے نشانات چھوٹے چھوٹے سوراخوں کی صورت میں موجود رہتے ہیں۔ براہِ کرم اس کا تفصیلی جواب عنایت فرمائیں تاکہ لوگ اس سے رہنمائی حاصل کر سکیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ خنزیر کے جمیع اجزاء شرعاً و حرام اور نجس العین ہے، اس کے کسی بھی جزء سے مسلمانوں کے لیے انتفاع جائز نہیں، اس لیے اس کے چمڑے سے بنے کوٹ وغیرہ کی خرید وفروخت اور اس کے استعمال کا ایک ہی حکم ہے کہ ان تمام امور سے احتراز و اجتناب بہرحال واجب ہے۔
لہٰذا جن لوگوں نے دورانِ نماز اس کے چمڑے سے بنے کوٹ وغیرہ کا استعمال کیا ہو اُن کی وہ نماز ادا نہیں ہوئی، اُن پر اس مدت کی تمام نمازوں کا اعادہ اور آئندہ کےلیے ایسے لباس کے استعمال سے احتراز بھی لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ: ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ﴾ (المائدة: 3)۔
وفی صحيح البخاري: عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما، أنه: سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول عام الفتح وهو بمكة: «إن الله ورسوله حرم بيع الخمر، والميتة والخنزير والأصنام» اھ(3/ 84)۔
وفی الدر المختار: (وبعده) أي الدبغ (يباع) إلا جلد إنسان وخنزير(5/ 73)۔
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله إلا جلد إنسان إلخ) فلا يباع وإن دبغ لكرامته، وفي الباقي لإهانته ولعدم عمل الدباغة فيه كما مر في محله. (5/ 73)۔
وفی الدر المختار: (خلا) جلد (خنزير) فلا يطهر الخ (1/ 204)۔
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله فلا يطهر) أي؛ لأنه نجس العين، بمعنى أن ذاته بجميع أجزائه نجسة حيا وميتا اھ(1/ 204)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59088کی تصدیق کریں
0     1470
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات