احکام نماز

میت کی جانب سے وصیت کے بغیر نماز روزوں کا فدیہ دینا

فتوی نمبر :
59087
| تاریخ :
2006-05-26
عبادات / نماز / احکام نماز

میت کی جانب سے وصیت کے بغیر نماز روزوں کا فدیہ دینا

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی تین سال سے مرض الموت میں مبتلا تھا ، اور وہ تیمم اور اشارہ سے نماز پڑھنے پر قادر تھا، لیکن نماز نہیں پڑھی اور اس مرض میں ان کا انتقال ہوا تو اس پر انتقال کے بعد کفارہ ہے یا نہیں؟ اور حال یہ ہے کہ اس نے کوئی وصیت بھی نہیں کی ہو، اگر کفارہ وغیرہ ہے تو اگر وارث اپنی مرضی سے دینا چاہے ، تو اس فدیہ وغیرہ کی کیا صورت بنےگی؟ اس بارے میں مطلع فرما دیجیے۔ شکریہ
اور اس طرح روزوں کے کفارہ کا کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جب مرحوم نے وصیت نہیں کی تو ورثاء پر اس کی نماز اور روزوں کا فدیہ دینا بھی واجب نہیں، تاہم اگر تمام ورثاء عاقل بالغ ہوں اور وہ جمیع ترکہ سے یا تقسیمِ ترکہ کے بعد کوئی وارث اپنے ہی حصہ سے ، مرحوم کی نمازوں وغیرہ کا فدیہ دینا چاہے تو شرعاً اس کی گنجائش ہے، جبکہ فی نماز اور روزہ کا فدیہ یہ ہے کہ دو سیر گندم یا اس کی قیمت فقراء و مساکین پر صدقہ کر دی جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی حاشية ابن عابدين: وأما إذا لم يوص فتطوع بها الوارث فقد قال محمد في الزيادات إنه يجزيه إن شاء الله تعالى اھ(2/ 72)۔
وفی الدر المختار: (ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة اھ (2/ 72)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59087کی تصدیق کریں
0     1620
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات