احکام نماز

تین رکعت کے مسبوق کا قعدۂ اولی چھوڑ دینا

فتوی نمبر :
59078
| تاریخ :
2010-03-02
عبادات / نماز / احکام نماز

تین رکعت کے مسبوق کا قعدۂ اولی چھوڑ دینا

السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام اس مسئلہ کےبارے میں کہ اگر کسی شخص کی چار رکعت والی نماز میں تین رکعت رہ گئی ہوں اور آخری رکعت میں شامل ہوا ہو ، پھر امام کے سلام کے بعد اپنی دو رکعتیں بغیر قعدہ اولیٰ کے پڑھیں اور چوتھی رکعت مکمل کی اور سجدہ سہو بھی نہیں کیا تو آیا اس کی نماز ہو گئی یا اعادہ کرنا ضروری ہے؟
نوٹ: مذکور شخص نے قعدہ اولیٰ اور سجدہ سہو کی وجوبیت سے لا علمی میں ان کو چھوڑا ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ایسی صورت میں سجدہ سہو واجب ہوتا ہے اگر سجدہ سہو بھی نہ کیا جائے تو پھر وقت کے اندر اندر اس نماز کا اعادہ واجب ہوتا ہے۔ جب یہ دونوں امور بجا نہیں لائے گئے۔ اور وقت بھی ختم ہو چکا ہے تو اب یہ نماز کراہۃ تحریمیہ کے ساتھ ہی ادا شمار ہو کر فرض اس کے ذمہ سے ساقط ہو جائےگا اسے لوٹانے یا س کی قضاء کی ضرورت نہیں۔ تاہم اس کوتاہی پر توبہ واستغفار لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الفتاوى الهندية: (ومنها) القعدة الأولى حتى لو تركها يجب عليه السهو، كذا في التبيين. (1/ 127)۔
وفی الفقه الإسلامي وأدلته: وسجود السهو واجب على الصحيح عند الحنفية، سنة في الجملة في المذاهب الأخرى (2). قال الحنفية: يجب سجود السهو على الصحيح، يأثم المصلي بتركه، ولا تبطل صلاته؛ لأنه ضمان فائت، وهو لا يكون إلا واجباً اھ(2/ 1105)۔
وفی حاشیة الطحطاوی: (ووجب علیه إعادة الصلاة) فإن لم یعدها حتی خرج الوقت سقطت عنه مع کراهة التحریم هذا هو المعتمه اھ (ص: ۲۵۱)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59078کی تصدیق کریں
0     1763
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات