نجاسات اور پاکی

جس دونوں ہاتھ کٹ گۓ ہوں ، اس کے لۓ طہارت و ضوء کے احکامات

فتوی نمبر :
58995
| تاریخ :
2000-02-02
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

جس دونوں ہاتھ کٹ گۓ ہوں ، اس کے لۓ طہارت و ضوء کے احکامات

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی شخص کے دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت کٹے ہوئے ہوں تو اس کیلئے طہارت کا طریقہ اور حکم کیا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ایسے شخص سے ہاتھ دھونے کا فریضہ ساقط ہے البتہ چہرہ اور پاؤں کا دھونا اب بھی لازم ہے۔لہٰذا جس طرح ممکن ہو اپنے طور پر یا بیوی وغیرہ کی مدد سے استنجاء اور دیگر اعضاء وضو کے دھونے کا اہتمام کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الہندیۃ: ولو قطعت یدہ او رجلہ فلم یبق من المرفق والکعب شیء سقط الغسل ولو بقی وجب۔ (ج۱، ص۵)-
وفی الشامیۃ: الرجل المریض إذا لم تکن لہ امرأۃ ولا أمۃ ولہ ابن او اخ وہو لا یقدر علی الوضوء قال یوضئہ ابنہ أو اخوہ غیر الاستنجاء فإنہ لا یمس فرجہ ویسقط عنہ الاستنجاء۔ ولا یخفٰی أن ھٰذا التفصیل یجری فیمن شلت یداہ لأنہ فی حکم المریض۔ (ج۱، ص۳۴۱)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 58995کی تصدیق کریں
0     2260
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات