کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی شخص کے دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت کٹے ہوئے ہوں تو اس کیلئے طہارت کا طریقہ اور حکم کیا ہے؟
ایسے شخص سے ہاتھ دھونے کا فریضہ ساقط ہے البتہ چہرہ اور پاؤں کا دھونا اب بھی لازم ہے۔لہٰذا جس طرح ممکن ہو اپنے طور پر یا بیوی وغیرہ کی مدد سے استنجاء اور دیگر اعضاء وضو کے دھونے کا اہتمام کرے۔
وفی الہندیۃ: ولو قطعت یدہ او رجلہ فلم یبق من المرفق والکعب شیء سقط الغسل ولو بقی وجب۔ (ج۱، ص۵)-
وفی الشامیۃ: الرجل المریض إذا لم تکن لہ امرأۃ ولا أمۃ ولہ ابن او اخ وہو لا یقدر علی الوضوء قال یوضئہ ابنہ أو اخوہ غیر الاستنجاء فإنہ لا یمس فرجہ ویسقط عنہ الاستنجاء۔ ولا یخفٰی أن ھٰذا التفصیل یجری فیمن شلت یداہ لأنہ فی حکم المریض۔ (ج۱، ص۳۴۱)-