کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کچھ صفحات یا اسلامی اخبارات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کا نام یا معزز اسمائے گرامی لکھے ہوئے ہیں یا قرآن و حدیث یا اسلامی خطبا ت ہیں کیا ان کو جلانا جائز ہے یا نہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دے کر مشکور فرمائیں۔
مذکور اوراق اگر ناقابلِ انتفاع ہوں تو ان سے اسمائِ الٰہیہ کو مٹاکر باقی کو جلایا جائے اور اگر کسی کپڑے وغیرہ میں لپیٹ کر کسی محفوظ جگہ دفنا دیا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔
فی صحیح البخاری: ردّ عثمان المصحف الی حفصۃ وامر بما سواہ من القرآن فی کل صحیفۃ او مصحف ان یحرق۔ (ج۲، ص۷۴۶)-
وفی الدر: الکتب التی لا ینتفع بہا یمحٰی عنہا اسم اﷲ وملٰئکتہ ورسلہ ویحرق الباقی ولا بأس بان تلقی فی ماء جار کما ہی او تدفن وہو أحسن۔ (ج۶، ص۴۲۲)-
وفی الشامیۃ: وفی الذخیرۃ: المصحف اذا صار خلقا وتعذر القرأۃ منہ لا یحرق بالنار الیہ اشار محمدؒ وبہ نأخذ ولا یکرہ دفتہ وینبغی ان یلف بخرقۃ طاہرۃ۔ اھـ (ج۶، ص۴۲۲) -