محترم جناب مفتی صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مسئلہ یہ دریافت کرنا ہے کہ درجہ حفظ کی طالبات ایامِ حیض میں قرآن پڑھتی ہیں کیونکہ ہر ماہ سات آٹھ ایام ناغہ کرنے سے منزل بھول جاتی ہیں، بعض مدارس والے گنجائش دیتے ہیں شرعاً اس کی کیا حقیقت ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت کردیں مع دلائل تو ہم آپ جناب کی نہایت شکرگزار ہوں گی۔
ان ایام میں اپنے کسی محرم یا اپنی کیسٹ یا کسی دوسری طالبہ سے متعلقہ پاروں اور سبقی کا سننا اور محض دل ہی دل میں زبان سے پڑھے بغیر دہرانا اگرچہ جائز ہے، مگر کلاس میں بیٹھ کر ٹیپ سننے یا کسی طالبہ کا اپنا سبق سبقی اور منزل یاد کرنے اور سنانے کی بجائے دوسرے کیلئے پڑھنا یقیناً مشکل امر ہے، جو آج تک حفظ کی کسی طالبہ سے متعلق سننے میں بھی نہیں آیا، اس کے بعد واضح ہو کہ قرآنِ کریم اللہ رب العزت کی کتاب ہے جسے ناپاکی حالت میں چھونے تک کو (لا یمسہٗ الا المطہرون) الآیۃ کے حکم سے منع فرمادیا اسی طرح احادیث صحیحہ صریحہ کی روشنی میں کسی جنبی اور حائضہ عورت کیلئے بلا تقطیع اس کی تلاوت ناجائز اور حرام ہے، لہٰذا بالغ طالبات پر لازم ہے کہ ان مخصوص، ’’ماہواری‘‘ کے ایام میں تلاوتِ قرآن کریم سے احتراز کریں اسی طرح متعلقہ مدرسہ والوں کو بھی چاہئے کہ دورانِ کلاس مذکور کسی طریقہ یا مفردات علیحدہ علیحدہ، یعنی تقطیع جیسے (الحمد) ایک سانس میں (للہ) ایک سانس میں (ربّ) ایک سانس میں اور (العالمین) ایک الگ سانس میں پڑھنے اور سننے کا اہتمام کرسکتے ہوں تو ایسی طالبات کو کلاس میں حاضر ہونے پر مجبور کرسکتے ہیں ورنہ انہیں ان ایام کی رخصت دے دیں، ورنہ حرام شرعی کے ارتکاب سے مؤاخذہ آخرت میں جوابدہ ہوں گے کیونکہ قرآنِ کریم کی تلاوت بھی اسی وقت عبادت بن سکتی ہے جب آدابِ شرعیہ ملحوظ ہوں۔
وھذا إذا قصدت القراءۃ، فان لم تقصدبھا نحو أن تقراء (الحمدللہ) شکراً للنعمۃ فلا بأس بہٖ، وذکر الصدر الشہید رحمہ اللہ فی مختصر کتاب الحیض أن الاٰیۃ اذا کانت طویلۃ فقراءتھا حرام علیھا، وان کانت قصیرۃ إن کانت تجری علی اللسان عند الکلام کقولہ (بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، الحمد اللہ رب العٰلمین) یحرم أیضًا، وإن کانت لا تجری علی اللسان عند الکلام کقولہٖ (ثم نظر) وکقولہ (ولم یولد) فلا بأس بہ وفی الحجۃ: وقراءتہ بالفارسیۃ أیضًا علی قول أبی حنیفۃ رحمہ اللہ لا یجوز، وإذا حاضت المعلمۃ فینبغی لھا أن تعلم الصبیان کلمۃ کلمۃ، وتقطع بین الکلمتین علی قول الکرخیؒ، وعلی قول الطحاویؒ تعلم نصف آیۃ تقطع ثم تعلم نصف آیۃ ولا یکرہ لھا التھجی بالقرآن۔ اھـ (التارتارخانیۃ: ج۱، ص۴۸۰)۔
واختلف المتأخرون: فی تعلیم الحائض والجنب والأصح أنہ لا بأس بہٖ ان کان یلقن کلمۃ کلمۃ ولم یکن من قصدہٖ ان یقرأ آیۃ نامۃ۔ (بحر: ج۱، ص۲۰۰)
فی الفتاویٰ الھندیۃ: وإذا حاضت المعلمۃ فینبغی لھا أن تعلم الصبیان کلمۃ کلمۃ وتقطع بین الکلمتین ولا یکرہ لھا التھجی بالقرآن کذا فی المحیط۔ اھـ (ج۱، ص۳۸) واللہ اعلم بالصواب