کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ :
زید شادی شدہ اور نوکر پیشہ ہے اس کی کل تنخواہ پندرہ ہزار روپے ماہانہ بنتی ہے ، ایک دکان بھی چلاتا ہے ، جو خود اس کی مالیت کا نہیں، بلکہ بھائی نے روپے دے کر سامان ڈالا ہے، زید دکان سے صرف روزانہ پانچ چھ سو روپے لیتا ہے،اسی طرح زید کی زمین جو اب تک بھائیوں کے ساتھ مشترک ہے جس میں زید کے ڈھائی کنال بنتے ہیں جس میں فصل بھی مشترک ہوتا ہے، اور بعد میں اس فصل کو تقسیم کیا جاتا ہے ، جس سے زید کا تھوڑا گزارہ ہوتا ہے ،باقی اخراجات میں زید اکثر محتاج ہوتا ہے۔
تو کیا زید اس حالت میں کسی سے زکوٰۃ لے سکتا ہے یا نہیں؟
صورت مسئولہ میں زید کے پاس اگرضرورت اصلیہ کے علاوہ ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کے بقدر مالیت کی کوئی اور چیز نقدی یا مال تجارت وغیرہ موجود نہ ہو تو وہ زکوۃ کا مستحق ہے زکوۃ کی رقم لے سکتاہے،ورنہ نہیں۔واللہ اعلم
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0