مباحات

جنات اور مؤکلات سےکام لینے کا حکم

فتوی نمبر :
57891
| تاریخ :
2022-08-21
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

جنات اور مؤکلات سےکام لینے کا حکم

السلام علیکم حضرت میں ایک عام سا انسان ہوں۔ میرے ایک جاننے والے عامل ہیں انکے پاس جنات اور موکل ہیں۔ انہوں نے مجھے اپنے جنات موکلات بلانے کی اجازت دی ہوئی ہے۔ میں ان سے جائز کام لیتا ہوں۔ مثلا کسی بیمار کا دم کروا دیا کسی کے جادو کاٹنے کا کام لے لیا کسی پر گندے اثرات ہیں وہ ان سے کہہ کر ختم کروا دئے۔ غائب کی بات صرف اتنی پوچھتا ہوں کے جادو ہےیا کوئی اور وجہ۔ میں آپسے پوچھنا یہ چاہتا ہوں کے کن کاموں یا کن باتوں سے اجتناب کروں کے میرا ایمان خراب نہ ہو ؟۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جنات کو تابع کرنے کے سلسلے میں کچھ تفصیل ہے جس کی وضاحت حضرت مفتی شفیع صاحب نے اپنی تفسیر معارف القرآن میں کی ہے ، اس کو من و عن نقل کیا جاتا ہے۔
”خلاصہ یہ ہے کہ جنات کی تسخیر اگر کسی کے لیے بغیر قصد و عمل کے محض منجانب اللہ ہو جائے جیسا کہ سلیمان علیہ السلام اور بعض صحابہ کرام کے متعلق ثابت ہے تو وہ معجزہ یا کرامت میں داخل ہے اور جو تسخیر عملیات کے ذریعہ کی جاتی ہے اس میں اگر کلمات کفریہ یا اعمال کفریہ ہوں تو کفر، اور صرف معصیت پر مشتمل ہوں تو گناہِ کبیرہ ہے، اور جن عملیات میں ایسے الفاظ استعمال کیے جائیں جن کے معنی معلوم نہیں ان کو بھی فقہاء نے اس بنا پر ناجائز کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ان کلمات میں کفر و شرک یا معصیت پر مشتمل کلمات ہوں قاضی بدرالدین نے ”آکام المرجان“ میں ایسے نامعلوم المعنی کلمات کے استعمال کو بھی ناجائز لکھا ہے، اور اگر یہ عمل تسخیر اسماء الہٰیہ یا آیاتِ قرآنیہ کے ذریعہ ہو اور اس میں نجاست وغیرہ کے استعمال جیسی کوئی معصیت بھی نہ ہو تو وہ اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ مقصود اس سے جنات کی ایذاء سے خود بچنا یا دوسرے مسلمانوں کو بچانا ہو یعنی دفعِ مضرت مقصود ہو، جلب منفعت مقصود نہ ہو کیونکہ اگر اس کو کسبِ مال کا پیشہ بنایا گیا تو اس لیے جائز نہیں کہ اس میں استرقاقِ حر یعنی آزاد کو اپنا غلام بنانا اور بلا حقِ شرعی اس سے بیگار لینا ہے جو حرام ہے واللہ اعلم (معارف القرآن: ۷/ ۲۶۶)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شفیع اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 57891کی تصدیق کریں
1     3793
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات