نجاسات اور پاکی

گیلے کپڑے پر ناپاک قطرے گر جانے کا حکم

فتوی نمبر :
51390
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

گیلے کپڑے پر ناپاک قطرے گر جانے کا حکم

اگر گیلے کپڑے پر ایک یا دو قطرے ناپاکی کے لگ جائیں تو نماز کا کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

گیلے کپڑے پر نجاست لگنے کی صورت میں اگر اس کا پھیلاؤ قدرِ درہم سے زیادہ ہو جائے تو نماز درست نہ ہوگی،تاہم اگر قدرِ درہم یا اس سے کم پھیلاؤ ہو تو نماز اگرچہ کراہت کے ساتھ ادا ہوجائے گی،تاہم نماز سے قبل اس کو بھی دھو کر پاک کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (وعفا) الشارع (عن قدر درهم) وإن كره تحريما، فيجب غسله، وما دونه تنزيها فيسن، وفوقه مبطل فيفرض اھ (1/316)۔
فی الفتاوی الھندیة: النجاسة إن كانت غليظة وهي أكثر من قدر الدرهم فغسلها فريضة والصلاة بها باطلة وإن كانت مقدار درهم فغسلها واجب والصلاة معها جائزة وإن كانت أقل من الدرهم فغسلها سنة اھ (1/58)۔
وفی البحر الرائق: (قوله: وعفي قدر الدرهم كعرض الكف من نجس مغلظ كالدم والبول والخمر وخرء الدجاج وبول ما لا يؤكل لحمه والروث والخثي) اھ (1/239)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 51390کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات