اگر گیلے کپڑے پر ایک یا دو قطرے ناپاکی کے لگ جائیں تو نماز کا کیا حکم ہے؟
گیلے کپڑے پر نجاست لگنے کی صورت میں اگر اس کا پھیلاؤ قدرِ درہم سے زیادہ ہو جائے تو نماز درست نہ ہوگی،تاہم اگر قدرِ درہم یا اس سے کم پھیلاؤ ہو تو نماز اگرچہ کراہت کے ساتھ ادا ہوجائے گی،تاہم نماز سے قبل اس کو بھی دھو کر پاک کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
کما فی الدر المختار: (وعفا) الشارع (عن قدر درهم) وإن كره تحريما، فيجب غسله، وما دونه تنزيها فيسن، وفوقه مبطل فيفرض اھ (1/316)۔
فی الفتاوی الھندیة: النجاسة إن كانت غليظة وهي أكثر من قدر الدرهم فغسلها فريضة والصلاة بها باطلة وإن كانت مقدار درهم فغسلها واجب والصلاة معها جائزة وإن كانت أقل من الدرهم فغسلها سنة اھ (1/58)۔
وفی البحر الرائق: (قوله: وعفي قدر الدرهم كعرض الكف من نجس مغلظ كالدم والبول والخمر وخرء الدجاج وبول ما لا يؤكل لحمه والروث والخثي) اھ (1/239)۔