آج کل ہر جگہ ، گھروں میں بھی کموڈ اور مسلم شاور لگے ہوئے ہیں ، تو پاخانہ کرنے کے بعد الٹے ہاتھ سے پاخانے والی جگہ کو دھونا ضروری ہے یا صرف مسلم شاور سے پانی مارنے سے بھی پاک ہوجاتے ہیں؟ اگر ہاتھ سے دھونا ہے تو اس کا طریقہ کیا ہے ۔شکریہ!
قضائے حاجت کے بعد اگر شاور کے ذریعے پانی کے استعمال سے ناپاکی کا اثر ختم ہوجائے، تو پاکی حاصل ہوجائے گی ، اس کے بعد ہاتھ کے ذریعے مقعد(پاخانے والی جگہ ) کو دھونا لازم اور ضروری نہیں ، البتہ اگر شاور کے ذریعے پانی کے استعمال سے ناپاکی کے زائل اور ختم ہونے کا یقین یا غالبِ گمان نہ ہو تو ایسی صورت میں بائیں ہاتھ کے ذریعے مقعد کو دھو کر استنجاء کرنا ضروری ہے ، جس کا طریقہ یہ ہے کہ دائیں ہاتھ سے پانی ڈالے اور بائیں ہاتھ سے مقعد کو خوب اچھی طرح دھوئے اور صاف کرے ، یہاں تک کہ نجاست کا کوئی اثر باقی نہ رہے ، چنانچہ جب پاکی کا یقین اور غالبِ گمان ہوجائے، تو شرعاً پاکی حاصل ہوجائے گی۔
كما فی رد المحتار: تحت (قوله : يجب الاستبراء إلخ) هو طلب البراءة من الخارج بشيء مما ذكره الشارح حتى يستيقن بزوال الأثر و أما الاستنقاء هو طلب النقاوة : و هو أن يدلك المقعدة بالأحجار أو بالأصابع حالة الاستنجاء بالماء و أما الاستنجاء: فهو استعمال الأحجار أو الماء ، هذا هو الأصح في تفسير هذه الثلاثة كما في الغزنوية اھ (1/ 344)۔
و فیه أیضاً : ثم يفيض الماء باليمنى على فرجه و يعلي الإناء و يغسل فرجه باليسرى، و يبدأ بالقبل ثم الدبر و يرخي مقعدته ثلاثا و يدلك كل مرة و يبالغ فيه ما لم يكن صائما فينشف بخرقة قبل أن يجمع كي لا يصل الماء إلى جوفه فيفطر، ثم يدلك يده على حائط أو أرض طاهرة ثم يغسلها ثلاثا ، ثم يقوم و ينشف فرجه بخرقة نظيفة ، فإن لم تكن معه يمسح بيده مرارا حتى لا تبقى إلا بلة يسيرة اھ (1/ 345)۔