احکام نماز

کیا سستی اور لاپرواہی کی وجہ سے قضاء شدہ نماز توبہ سے معاف اور ساقط ہوجاتی ہے؟

فتوی نمبر :
49716
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / احکام نماز

کیا سستی اور لاپرواہی کی وجہ سے قضاء شدہ نماز توبہ سے معاف اور ساقط ہوجاتی ہے؟

اگرکسی کی نماز سوتے رہ جانے یا بھول جانے کے باعث، سستی یا لاپرواہی کے باعث قضاء ہوجائے تو دونوں صورتوں میں کیا حکم ہے؟ کیا قضا ادا کرنی ہوگی، یا قضا نہیں بلکہ توبہ و استغفار سے معاف ہوجائیگی؟ مجھے کہا گیا کہ سستی ولاپرواہی کے باعث چھوٹ جانے والی نماز کی قضا نہیں، ہاں سو جانے یا بھول جانے کی صورت میں ہے، براہِِ کرم دونوں حالات کا الگ الگ جواب مرحمت فرمائیں اور قرآن وحدیث کا حوالہ بھی دیدیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ فرض نماز جان بوجھ کر قضاء کرنا خواہ سستی اور لا پرواہی کیوجہ سے ہو یا قصداً ہو , شرعاً ناجائز اور حرام اور گناہِ کبیرہ ہے، جس سے بہرصورت احتراز لازم ہے ، البتہ قضاء شدہ نمازیں (خواہ نیند اور بھول جانے کی وجہ سے ہوں یا غفلت اورلا پرواہی کیوجہ سے) بہر صورت ان سب نمازوں کی قضا شرعاً لازم ہے، توبہ واستغفار سے قضا نمازیں معاف نہیں ہوں گی۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في سنن الدارمي : عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " من نسي صلاة أو نام عنها، فليصلها إذا ذكرها، إن الله تعالى يقول (وأقم الصلاة لذكري} [طه: 14] (2/ 783) ۔
وفي رد المحتار: (قوله بعد صلاة العشاء) مصدر مضاف إلى مفعوله: أي بعد أن صلى العشاء (قوله لزمه قضاؤها) لأنها وقعت نافلة، ولما احتلم في وقتها صارت فرضا عليه لأن النوم لا يمنع الخطاب فيلزمه قضاؤها في المختار، ولذا لو استيقظ قبل الفجر لزمه إعادتها إجماعا كما قدمناه أول كتاب الصلاة عن الخلاصة. وفي الظهيرية: حكي عن محمد بن الحسن أنه جاء إلى الإمام أول احتلامه فقال: ما تقول في غلام احتلم في الليل بعد ما صلى العشاء هل يعيدها؟ قال نعم، فقام محمد إلى زاوية المسجد وأعادها، وهي أول مسألة تعلمها من الإمام، فلما رآه يعمل بعلمه تفرس فقال: إن هذا الصبي يصلح، فكان كما قال اهـ ملخصا (قوله صح) لأنه مخاطب بقضائها في ذلك الوقت فيلزمه قضاؤها على قدر وسعه؛ أما إذا لم يكن عذر فإنه يلزمه قضاء الفائتة على الصفة التي فاتت عليها، ولذا يقضي المسافر فائتة الحضر الرباعية أربعا، ويقضي المقيم فائتة السفر ركعتين لأن القضاء يحكي الأداء إلا لضرورة. (2/ 76)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 49716کی تصدیق کریں
0     701
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات