نجاسات اور پاکی

سلسل البول والے شخص کا حکم

فتوی نمبر :
49415
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

سلسل البول والے شخص کا حکم

مجھے پیشاب کے قطروں کی بیماری ہے ، قضائے حاجت کے بعد دو سے تین گھنٹے قطرے نکلتے رہتے ہیں ، میں معذور کے حکم میں داخل ہوں یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کو اگر پیشاب کے قطرے اس قدر تسلسل کے ساتھ نہ آتے ہوں کہ جس کی وجہ سے نماز کے پور ے وقت میں اسے پاکی کےساتھ فقط‬‎ فرض نماز پڑھنے کا وقت بھی میسر نہ ہو، بلکہ قضاء حاجت کے بعد کچھ وقت کیلے قطرے آتے ہوں، تو ایسی صورت میں سائل شرعاً معذور شمارنہ‬‎ ‎‫ہو گا، بلکہ سائل کو چاہیئے کہ نماز سے کچھ وقت پہلے قضاء حاجت سے فارغ ہو کر انتظار کرے اور جب قطرے آنا بند ہو جائیں، تو اسکے بعد وضوء کر کے‬‎ ‎‫نماز پڑھے ، البتہ اگر سائل کو پیشاب کے قطرے اس قدر تسلسل کےساتھ آتے ہوں کہ اس بیماری کے دوران کسی بھی نماز کے پورے وقت میں عذر‬‎ ‎‫کے تسلسل کی وجہ سے اسے اتنا وقت بھی نہ ملے ، جس میں وہ کامل طہارت کے ساتھ وقتیہ فرض نماز اداء کر سکے ، تو ایسی صورت میں سائل شرعاً معذور‬‎ ‎‫کے حکم میں داخل ہو جائیگا اور تفصیل اس حکم کی یہ ہے کہ مثلاً ادائیگیِ ظہر کے لئے وہ ظہر کے شروع وقت سے اخیر وقت تک انتظار کرے، اگر اسے اس‬‎ ‎‫دوران اتناوقت نہ ملے کہ وہ کامل طہات کے ساتھ نمازِ ظہر ادا کر سکے توعصر کا وقت داخل ہونے سے قبل ظہر کے اخیر وقت میں وضو کر کے فقط‬‎‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬ فرض نمازِ ظہر ادا کرے ، اس کے بعد نمازِ عصر کی ادائیگی کیلئے پورا وقت انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ، بلکہ جماعت سے پہلے وضو کر کے‬‎ ‎‫نمازِ عصر باجماعت ادا کر لے ، اس دوران اگر پیشاب کے قطرے نکلتے بھی رہیں، تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا، اسی طرح‬‎ ‎‫مغرب و عشاء میں بھی وہ ایسا ہی کرے کہ ہر نماز کے لئے الگ الگ وضو کرلیا کرے ، اس پورے وقت میں اگر اس کے علاوہ کوئی دوسرا ناقضِ وضو نہ پایا گیا، تو مذکور عذر کے بار بار صادر ہونے سے اس کا وضو نہیں‬‎ ‎‫ٹوٹے گا ،‬‎‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬ البتہ اس دوران اگر پورا وقتِ نماز کوئی ایسا گزر جائے کہ اس پورے وقت میں یہ عذر اسے ایک مرتبہ بھی لاحق نہ ہوا ہو ، تو شر عاً وہ معذور‬‎ ‎‫نہیں رہے گا، اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ کر اسکے موافق عمل کرنے کی اشد ضرورت‬‎‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬ ہے۔‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : (وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة)بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل (وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه اھ (1/305)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 49415کی تصدیق کریں
| | |
1     2781
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات