مباحات

کیا کبوتر پالنا باعث برکت اور جادو سے نجات کا ذریعہ ہے ؟

فتوی نمبر :
49336
| تاریخ :
2022-02-09
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

کیا کبوتر پالنا باعث برکت اور جادو سے نجات کا ذریعہ ہے ؟

کبوتر پالنے کا حکم کیا ہے؛جس گھر میں کبوتر ہو اس پہ جادو نہیں ہوتا اور اس گھر میں برکت ہوتی ہے اسکی کیا حقیقت ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کبوتر پالنافی نفسہ جائز ہے، بشر طیکہ ان کے دانہ پانی کا خیال رکھا جائے، تاہم کبوتروں کو پالنے سے جادو کے اثرات جاتے رہتے ہیں یا اس گھر میں برکت ہوتی ہے یہ درست نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في صحيح المسلم: عن أنس بن مالك، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أحسن الناس خلقا، وكان لي أخ يقال له: أبو عمير، قال: أحسبه، قال: كان فطيما، قال: فكان إذا جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فرآه، قال: «أبا عمير ما فعل النغير» قال: فكان يلعب به (2150) --- والله اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 49336کی تصدیق کریں
0     1691
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات