احکام نماز

لوگوں کے درمیان بغیر سترے کے نماز پڑھنے کا حکم

فتوی نمبر :
48995
| تاریخ :
2022-01-19
عبادات / نماز / احکام نماز

لوگوں کے درمیان بغیر سترے کے نماز پڑھنے کا حکم

ہم ایک کمرے کے دفتر میں بیٹھے ہیں جس میں متعدد ورکنگ بینچ ہیں، میری ساتھ والی بینچ کی خاتون دفتری کے ساتھی بہت مذہبی ہیں اور وہ دن میں پانچ (5)بار باقاعدگی سے نماز پڑھتی ہے، وہ اپنے ورکنگ بینچ پر نمازپڑھتی ہے، اور میں کرسی پر بیٹھا ہوتا ہوں، اکثر میں اس کے سامنے بغیر کسی رکاوٹ کے بیٹھا رہتا ہوں، میں نے اسے مشورہ دیا لیکن کچھ فائدہ نہیں ہوا، کیا مجھ پر اس مسئلہ کا الزام ہوگا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور خاتون کو چاہیئے کہ نماز کے لئے کسی ایسی جگہ کا انتخاب کرے جہاں غیر محارم کی آمد و رفت نہ ہو، تاہم اگر آفس میں اس طرح کی کوئی جگہ نہ ہو تو بامرِ مجبوری اپنی جگہ نماز پڑھنے کی بھی گنجائش ہے، مگر جب اپنی جگہ نماز پڑھے تو اپنے آگے سترہ رکھ کر نماز پڑھا کرے، تاکہ نماز بلاکراہت ادا ہوجائے، اگر خاتون سترہ نہ رکھے تو سائل کو چاہیے کہ وہ درمیان میں سترہ رکھ لے، یا جس وقت وہ نماز ادا کرے اسکے سامنے سے ہٹ جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الفتاوى الهندية: ولو صلى إلى وجه إنسان يكره. كذا في المعدن ولو صلى إلى وجه إنسان وبينهما ثالث ظهره إلى وجه المصلي لم يكره. كذا في التمرتاشي الاستقبال إلى المصلي مكروه سواء كان المصلي في الصف الأول أو في الصف الأخير. كذا في المنية ولو صلى إلى ظهر رجل يتحدث لا يكره وإن كان بالقرب منه إلا إذا رفعوا أصواتهم بحيث يخاف المصلي أن يزل في القراءةفحينئذ يكره. هكذا في الخلاصة (1/ 108)
وفي الدر المختار: ( وصلاته إلى وجه إنسان ككراهة استقباله، فالاستقبال لو من المصلي فالكراهة عليه وإلا فعلى المستقبل ولو بعيدا ولا حائل (644/1)
وفي حاشية ابن عابدين تحت قوله وصلاته إلى وجه إنسان ففي صحيح البخاري وكره عثمان - رضي الله عنه - أن يستقبل الرجل وهو يصلي، وحكاه القاضي عياض عن عامة العلماء، وتمامه في الحلية وقال في شرح المنية: وهو محمل ما رواه البزار عن علي أن النبي - عليه الصلاة والسلام - رأى رجلا يصلي إلى رجل فأمره أن يعيد الصلاة ويكون الأمر بالإعادة لإزالة الكراهة لأنه الحكم في كل صلاة أديت مع الكراهة وليس للفساد. اهـ. والظاهر أنها كراهة تحريم، لما ذكر، ولما في الحلية عن أبي يوسف قال: إن كان جاهلا علمته، وإن كان عالما أدبته اهـ ولأنه يشبه عبادة الصورة قوله ككراهة استقباله الضمير للمصلي، وهو من إضافة المصدر إلى مفعوله ط قوله ولو بعيدا ولا حائل قال في شرح المنية: ولو كان بينهما ثالث ظهره إلى وجه المصلي لا يكره لانتفاء سبب الكراهة وهو التشبه بعبادة الصورة اهـ (644/1)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 48995کی تصدیق کریں
0     500
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات