حضرت مفتی صاحب! چند سوال حاضرِ خدمت ہیں موافقِ شریعت رہنمائی فرمائیں۔
(۱) کیا دینی مدارس کو بلا تملیک زکوٰۃ لگ سکتی ہے؟
(۲) ایک دیندار شخص جس کا گزر اوقات اپنے کاروبار پر ہے لیکن وہ صاحبِ نصاب نہیں بلکہ ذاتی طور پر بیس لاکھ کا مقروض ہے، جس کی دائیگی کیلئے کوئی اسباب نہیں، لیکن اس کے ساتھ وہ قرض لیکر مختلف جگہوں پر جگہ لیکر مسجد و مدارس تعمیر کرتا رہتا ہے کیا ایسے شخص کو زکوٰۃ دینے سے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی یا نہیں؟ کیا وہ شخص زکوٰۃ لیکر مدارس کی تعمیر و تعلیم پر لگاسکتا ہے؟
(۳) ہمارےشہر میں ایک ادارہ عرصہ تیرہ سال سے کام کررہا ہے، درسِ نظامی مکمل ہے، دورہ تفسیر، تقابلِ ادیان کے کورس بھی ہوتے رہتے ہیں، ۱۲ اساتذہِ کرام، ۲ خادم، ایک نگران ہے جن کی مجموعی تنخواہ اَسّی ہزار روپے ہیں، طالبات کیلئے آمد و رفت کا آدھا کرایہ , بعض کیلئے پورا کرایہ، کتب، یونیفارم، ادارہ مہیا کرتا ہے، دیگر تمام سہولیات گرم، ٹھنڈا پانی، ائیر کولر، جنریٹر، بل گیس، بجلی وغیرہ بذمہ جامعہ ہیں، بچے مسافر نہیں، اوسطاً ماہانہ خرچہ علاوہ تعمیر ڈیڑھ لاکھ تک ہے، اس ادارے کا مدیر خود بھی صاحب نصاب نہیں بچوں کی تمام ضروریات کیلئے قرض لیکر کام چلاتا ہے، کیا ایسے شخص کو یا ادارہ کو زکوٰۃ کی رقم دی جاسکتی ہےیا نہیں؟ آسان اور عوامی جواب عنایت فرمادیں۔
(۱) بلا تملیکِ شرعی مسجد و مدرسہ کی تعمیر و ترقی یا اساتذہ کی تنخواہ وغیرہ میں مالِ زکوٰۃ یا دیگر صدقاتِ واجبہ خرچ کرنا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
(۲-٣) جو شخص نہ تو صاحبِ نصاب ہو اور نہ ہی گھریلو روز مرہ بچوں کی ضروریات پوری کرنے پر قادر ہو، بلکہ وہ مقروض بھی ہو مگر سید نہ ہو تو اسے مالِ زکوٰۃ یا دیگر صدقاتِ واجبہ سے دینا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
جبکہ مذکور مدرسہ میں اگر مصرفِ زکوٰۃ نہ ہو تو مالِ زکوٰۃ یا دیگر صدقاتِ واجبہ مذکور مصارف میں بلا تملیکِ شرعی خرچ کرنے سےا حتراز لازم ہے، البتہ شخصِ مذکور کو چاہیئے کہ تعمیرِ مسجد وغیرہ کے سلسلہ میں بجائے قرض لینے کے نفلی صدقات اور عطیات لینے کا اہتمام کرے۔
فی الدر: وحیلة الجواز ان یعطی مدیونہ الفقیر ثم یأخذھا عن دینہ (الی قولہ) وحیلة التکفین بھا التصدق علی فقیر، ثم ھو یکفن فیکون الثواب لھما. وکذا فی تعمیر المسجد وتمامہ فی حیل الاشباہ. اھـ (ج۲، ص۲۷۱)
فی الدر: باب المصرف (الی قولہ) (ھو فقیر، وھو من لہ ادنی شیٔ) أی دون نصاب ای قدر نصاب غیر نام مستغرق فی الحاجة.... الخ (ج۲، ص۳۳۹) واللہ اعلم بالصواب
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0