السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! مسئلہ: ایک عورت کے 16 دسمبر کو نفاس کے چالیس دن مکمل ہوئے ، اس نے اٹھ کر اپنی نمازیں پڑھنا شروع کی ، اب 27 دسمبر کو اس کو دوبارہ خون آنا شروع ہوگیا ہے ،اب اس خون کا کیا حکم ہے؟ واضح رہے کہ یہ عورت کے ہاں پہلی ولادت تھی اور دوسری بات کہ ولادت سے پہلے انگریزی مہینے کے آخر میں عورت کو حیض آیا کرتا تھا۔
مذکور خاتون کے نفاس کا خون اگر سولہ دسمبر کو بند ہوا تھا تو اس کے بعد فقط گیارہ دن کی پاکی کے بعد جو خون آیا ہے ، یہ حیض نہیں ، بلکہ استحاضہ شمار ہوگا ، اس لئے اس خون کی وجہ سے شرعی احکامات متاثر نہ ہوں گے ، مذکور خاتون پر نماز اور دیگر احکامات بجا لانا لازم ہے۔
کما فی الدر المختار : (و الزائد) على أكثره (استحاضة) لو مبتدأة ؛ أما المعتادة فترد لعادتها و كذا الحيض، فإن انقطع على أكثرهما أو قبله فالكل نفاس و كذا حيض إن وليه طهر تام و إلا فعادتها و فی رد المحتار : تحت (قوله إن وليه طهر تام) قال في البحر: و إنما قيدنا به ؛ لأنها لو كانت عادتها خمسة أيام مثلا من أول كل شهر فرأت ستة أيام ، فإن السادس حيض أيضا (الیٰ قوله) و صورته في النفاس كانت عادتها في كل نفاس ثلاثين ثم رأت مرة إحدى و ثلاثين ثم طهرا أربعة عشر ثم رأت الحيض ، فإنها ترد إلى عادتها و هي الثلاثون و يحسب اليوم الزائد من الخمسة عشر التي هي طهر اھ(1/301)۔