احکام نماز

بیمار-معمر خاتون کے لیے قضاء نمازوں کاحکم

فتوی نمبر :
48135
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / احکام نماز

بیمار-معمر خاتون کے لیے قضاء نمازوں کاحکم

السلام علیکم ورحمۃ الله وبركاتہ! محترم علماء کرام، بنده كی نانی شوگر کی مریضہ ہے، اسی سال کی معمر خاتون ہیں، ماضی میں دل کا عارضہ اور فالج کا اٹیک ہونے کی وجہ سے کافی کمزور ہوگئی ہیں؟ فی الوقت ادا نماز کی ہی قوت ہے، قضا نمازیں جو ذمہ پر ہیں، في الوقت ادا نہیں کرسکتیں، ایسی صورت میں اس شرط کے ساتھ کہ اگر طبیعت سنبھل گئی تو بقدرِاستطاعت قضا کا اہتمام کریں گی، کیا اس بات کی گنجائش ہے کہ اپنی زندگی ہی میں نمازوں کا فدیہ ادا کرلیں یا پھر وارثوں کو ان کے بعد ترکہ میں سے ہی ایک تہائی ادا کر نا ضروری ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کی نانی کے ذمہ جو نمازیں باقی ہیں ، زندگی میں ان کا فدیہ دینا تو درست نہیں، بلکہ سائل کی نانی کے ذمہ حسبِ استطاعت جلد از جلد ان نمازوں کی قضاء کرنالازم ہے اور اس کے ساتھ سائل کی نانی کو چاہیے کہ ان نمازوں کے فدیہ کے متعلق وصیت بھی کرے، چنانچہ اس کے بعد اگر ان نمازوں کی قضا کرنے سے قبل سائل کی نانی کا انتقال ہو جائے تو ایسی صورت میں ورثاء کے ذمہ مرحومہ کے ترکہ میں کفن دفن کے متوسط مصارف اورقرضہ جات کی ادائیگی کے بعد بقیہ ترکہ کے ایک تہائی (3/1) کی حد تک مرحومہ کی قضاء نمازوں کا فدیہ دینالازم ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: ولو فدى عن صلاته في مرضه لا يصح بخلاف الصوم. اهـ (74/2)۔
و في رد المحتار: (قوله (جاز ) أي بخلاف كفارة اليمين والظهار والإفطار تتارخانية.
(قوله ولو فدى عن صلاته في مرضه لا يصح) في التتارخانية عن التتمة: سئل الحسن بن علي عن الفدية عن الصلاة في مرض الموت هل تجوز ؟ فقال لا . و سئل أبو يوسف عن الشيخ الفاني هل تجب عليه الفدية عن الصلوات كما تجب عليه عن الصوم وهوحي ؟ فقال لا . اهـ و في القنية ولا فدية في الصلاة حالة الحياة بخلاف الصوم. اهـ ( 2 / 74)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 48135کی تصدیق کریں
0     465
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات